Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:40:25 GMT

کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟

پاکستان میں عام طور پر سولر سسٹمز کا سیزن گرمیاں سمجھا جاتا ہے جب درجہ حرارت بڑھنے اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث شہری بڑی تعداد میں سولر پینلز نصب کرواتے ہیں اور اسی دوران قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

تاہم اس بار صورتحال اس سے مختلف ہے۔ موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے جو روایتی طور پر سولر مارکیٹ کا آف سیزن سمجھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز سستے ہو گئے ہیں لیکن جب وی نیوز نے سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی تو معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس حوالے سے وی نیوز نے سولر انرجی سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی۔

ڈائریکٹر رینرجی شرجیل احمد سلہری کے مطابق مارکیٹ میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ان کے مطابق موجودہ حالات میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی بلکہ تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سولر پینلز کی قمیتوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں سردیوں کے دوران قیمتوں کا اوپر جانا معمول ہے جبکہ پاکستان میں جی ایس ٹی میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی اس مہنگائی کی اہم وجوہات ہیں۔

ان کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر فی الحال سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق صرف 3 سے 4 روپے فی واٹ کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو مارکیٹ کے نارمل اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے اور اس سے کسی بڑے بحران یا نمایاں مہنگائی کا تاثر نہیں لینا چاہیے۔

قیمتیں آئندہ کچھ ہفتوں تک برقرار رہیں گی

انجینیئر عدنان بٹ نے وی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کبھی کبھار شپنگ لاگت یا ڈالر ریٹ میں ہلکی سی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے مگر مجموعی طور پر پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں اس وقت خاصی حد تک مستحکم ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی سپلائی چین میں ایسی کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں جو اچانک قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بنے اسی وجہ سے مارکیٹ ایک متوازن سطح پر چل رہی ہے۔

عدنان بٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ آنا ایک عام رجحان ہے جسے غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ روزانہ کے حساب سے ایک سے 2 روپے فی واٹ کبھی بڑھ جاتے ہیں اور کبھی اتنے ہی کم بھی ہو جاتے ہیں اور یہ ایک نارمل مارکیٹ بیہیوئر ہے جس سے مجموعی قیمتوں کا تاثر متاثر نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں نہ تو کوئی ایسا بڑا فیکٹر نظر آتا ہے جو قیمتوں کو اوپر دھکیلے اور نہ ہی کوئی ایسی وجہ ہے جو اس میں فوری کوئی کمی لے آئے لہٰذا آنے والے ہفتوں میں بھی سولر مارکیٹ کے اسی موجودہ مستحکم دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں سولر پینلز سولر پینلز کی قیمتوں میں کے مطابق

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟