بھارت میں دشمنی کی آگ: علاج کیلیے گئے معذور پاکستانی نوجوان کو بے دخل کر کے ماں کو روک لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
پاکستان دشمنی میں اندھی بھارت سرکار نے نفرت کی تمام حدیں پار کر دیں، دہلی میں علاج کے لیے موجود معذور پاکستانی نوجوان کو بے دخل کر دیا گیا جبکہ اس کی دہائیاں دیتی ہوئی والدہ کو بھارت میں ہی روک لیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ماں کے بغیر معذوری کا شکار نوجوان آیان بذریعہ ٹرین کینٹ اسٹیشن پہنچا جہاں چھیپا فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے رہائش گاہ ناظم آباد 2 نمبر منتقل کیا گیا۔
اس حوالے سے آیان کے والد عمران نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کی سزا بے گناہ شہریوں کو دی جا رہی ہے جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انھوں نے انتہائی غمگین آواز میں بتایا کہ بھارت کی سفاکیت یہاں ہی ختم نہ ہوئی بلکہ انھوں نے آیان کی والدہ اور چچی کو بھی بھارت میں ہی روک لیا گیا۔
آیان کے چچا نے اپیل کی ہے کہ بھارتی حکومت انسانیت کی بنیاد پر رحم کرے اور ہمارے پیاروں کو واپس آنے دے، انھوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں درجنوں پاکستانی خاندان کشیدگی کا شکار ہیں اور اپنے اہلخانہ سے بچھڑنے کے کرب میں مبتلا ہیں۔
ادھر آیان کے بہن اور بھائی زینب اور علیان کا کہنا ہے کہ ماں کی جدائی ناقابل برداشت ہے ہماری درد مندانہ اپیل ہے کہ فوری طور پر ہماری والدہ کو واپس بھیجا جائے۔
16 سالہ نوجوان آیان 2 سال قبل فائرنگ کا نشانہ بن کر معذور ہو گیا تھا جو علاج کی غرض سے اہل خانہ کے ہمراہ بھارت کے دارالحکومت دہلی گیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حالیہ واقعے کے بعد نفرت میں جھلستی مودی سرکار نے انسانی ہمدردی کو پس پشت ڈال کر آیان کو ماں سے جدا کر دیا۔
ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے آیان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے بتایا کہ پاکستان سے بھارت روانگی کے وقت دادی، والد اور والدہ نے دعا دی تھی کہ میں اپنے پیروں پر چل کر واپس آؤنگا لیکن بھارت کی اس تنگ نظری نے تو میرے خواب ہی چکنا چور کر دیئے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر دہلی کے اسپتال میں علاج شروع ہوا اور معروف ڈاکٹر سدھیر کمار نے میرا معائنہ بھی کیا مگر بھارتی میڈیا اور حکام نے اچانک ماحول کو جنگی رنگ دے دیا جس سے خوفزدہ ہو کر میرے ہمراہ بھارت آئے ہوئے والد مجھے لیکر پاکستان واپس آگئے۔
واضح رہے کہ آیان کی والدہ بھارتی نژاد ہیں جنھوں نے 16 برس قبل پاکستان میں شادی کی تھی اور تب سے یہیں مقیم تھیں اور رواں سال مارچ میں وہ اپنے بیٹے آیان کے علاج کی غرض سے بھارتی پاسپورٹ پر بھارت گئی تھیں۔
25 مارچ کو دہلی پہنچنے کے بعد 27 مارچ کو آیان کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد علاج مکمل نہ ہوسکا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔