WE News:
2026-06-03@04:57:06 GMT

اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کے ریٹ کیا ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کے ریٹ کیا ہوں گے؟

دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان ہر سال سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ عید قرباں کی تیاریوں کا آغاز ایک ماہ قبل ہی ہو جاتا ہے۔

چونکہ بچوں کو جانوروں سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے، اس لیے عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی بچے والدین سے قربانی کے لیے جلد سے جلد اور اچھے سا اچھا جانور گھر لانے کی ضد شروع کردیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی عازمین حجاج کتنے ارب کی قربانی کرینگے؟ اعدادو شمار سامنے آگئے

ملک بھر میں مہنگائی کے باعث جس طرح ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہیں، اسی طرح جانوروں کی قیمتوں میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔عیدالاضحی کے قریب آنے کے باعث جانوروں کی قیمتوں میں بھی 20 سے 30 فیصد کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

قیمتوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟

سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے پاکستان میں لوگ عموماً بکرے یا بیل کی قربانی کرتے ہیں۔ شوقین لوگ تو جانور خرید کر گھر لاتے اور پھر قربان کرتے ہیں تاہم ایسے افراد جو جانوروں کو وقت نہ دے سکتے ہوں یا جن کے پاس جگہ نہ ہو وہ مساجد میں یا دیگر فلاحی اداروں میں اپنے حصے کی رقم دے دیتے ہیں اور بدلے میں عید کے روز ان کو جانور ذبح ہونے کے بعد گوشت دے دیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال ایک مناسب بکرے کی قیمت 50 ہزار روپے سے 60 ہزار روپے کے درمیان تھی جس میں سے 25 کلو کے قریب گوشت نکل آتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ اندازاً 25 کلو گوشت والے بکرے کی قیمت 60 ہزار روپے سے 70 ہزار روپے تک ہو گئی ہے۔

منہ کھر کی بیماری

بکروں کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ رواں سال منہ کھر کی بیماری کا چھوٹے جانوروں پر وار ہے، اس بیماری سے چھوٹے جانوروں کا بہت نقصان ہوا ہے اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی جانور کم ہوں گے اور خریدار زیادہ جس سے ریٹ مزید بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: حج کے بعد کی گئی قربانی کا گوشت کہاں جاتا ہے؟

اسی طرح قد میں بڑے، خوبصورت اور وزنی بکرے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تک تھی جو کہ اس مرتبہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

زیادہ قیمت والے بکرے شوقین افراد ہی قربان کیا کرتے ہیں اور ان بکروں کی دیکھ بھال پر بھی ماہانہ 10 ہزار روپے سے زائد کا خرچ آتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

بیل

سال 2023 اور 2204 میں پاکستان میں بہت سے بیل جانوروں کی بیماری لمپی اسکن وائرس سے متاثر تھے۔ اس وجہ سے مارکیٹ میں جانوروں کی تعداد نسبتاً کم تھی، یہی وجہ ہے کہ بیل کی قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ تھی۔

گزشتہ سال ایک مناسب بیل جس میں 3 من گوشت ہو اس کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ روپے تک تھی، اور عید سے ایک دن قبل جانوروں کی تعداد میں کمی ہونے کے باعث یہ قیمت ڈھائی لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کیا محلے داروں کی طرح ممالک بھی ایک دوسرے کو قربانی کا گوشت بھیجتے ہیں؟

جبکہ رواں سال یہ قیمت ڈھائی لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مساجد نے 7 حصوں کے بیل میں ایک حصے کی قیمت 25 سے 28 ہزار ہزار روپے مقرر کی ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کو بیل کی قربانی کرنا پسند ہے۔ چونکہ بیل میں 7 افراد کے حصے ہوتے ہیں اس لیے بڑی رقم کا بیل لینا زیادہ مشکل بھی نہیں ہوتا ہے۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں کیٹل فارمز موجود ہیں جہاں بڑے جانوروں کو پورا سال پالا جاتا ہے اور عید پر فروخت کردیا جاتا ہے۔ ان فارمز پر شوقیہ رکھے گئے بیلوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک ہے جبکہ کراچی میں چند بیلوں کی قیمتوں ایک کروڑ روپے سے بھی زائد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بقر عید بکرا بیل قربانی گائے مہنگائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیل گائے مہنگائی ہزار روپے سے لاکھ روپے تک جانوروں کی گزشتہ سال کی قربانی کرتے ہیں جاتا ہے کی قیمت

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ