WE News:
2026-07-24@09:28:44 GMT

اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کے ریٹ کیا ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

اس مرتبہ قربانی کے جانوروں کے ریٹ کیا ہوں گے؟

دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان ہر سال سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ عید قرباں کی تیاریوں کا آغاز ایک ماہ قبل ہی ہو جاتا ہے۔

چونکہ بچوں کو جانوروں سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے، اس لیے عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی بچے والدین سے قربانی کے لیے جلد سے جلد اور اچھے سا اچھا جانور گھر لانے کی ضد شروع کردیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی عازمین حجاج کتنے ارب کی قربانی کرینگے؟ اعدادو شمار سامنے آگئے

ملک بھر میں مہنگائی کے باعث جس طرح ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہیں، اسی طرح جانوروں کی قیمتوں میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔عیدالاضحی کے قریب آنے کے باعث جانوروں کی قیمتوں میں بھی 20 سے 30 فیصد کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

قیمتوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟

سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے پاکستان میں لوگ عموماً بکرے یا بیل کی قربانی کرتے ہیں۔ شوقین لوگ تو جانور خرید کر گھر لاتے اور پھر قربان کرتے ہیں تاہم ایسے افراد جو جانوروں کو وقت نہ دے سکتے ہوں یا جن کے پاس جگہ نہ ہو وہ مساجد میں یا دیگر فلاحی اداروں میں اپنے حصے کی رقم دے دیتے ہیں اور بدلے میں عید کے روز ان کو جانور ذبح ہونے کے بعد گوشت دے دیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال ایک مناسب بکرے کی قیمت 50 ہزار روپے سے 60 ہزار روپے کے درمیان تھی جس میں سے 25 کلو کے قریب گوشت نکل آتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ اندازاً 25 کلو گوشت والے بکرے کی قیمت 60 ہزار روپے سے 70 ہزار روپے تک ہو گئی ہے۔

منہ کھر کی بیماری

بکروں کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ رواں سال منہ کھر کی بیماری کا چھوٹے جانوروں پر وار ہے، اس بیماری سے چھوٹے جانوروں کا بہت نقصان ہوا ہے اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی جانور کم ہوں گے اور خریدار زیادہ جس سے ریٹ مزید بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: حج کے بعد کی گئی قربانی کا گوشت کہاں جاتا ہے؟

اسی طرح قد میں بڑے، خوبصورت اور وزنی بکرے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تک تھی جو کہ اس مرتبہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

زیادہ قیمت والے بکرے شوقین افراد ہی قربان کیا کرتے ہیں اور ان بکروں کی دیکھ بھال پر بھی ماہانہ 10 ہزار روپے سے زائد کا خرچ آتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

بیل

سال 2023 اور 2204 میں پاکستان میں بہت سے بیل جانوروں کی بیماری لمپی اسکن وائرس سے متاثر تھے۔ اس وجہ سے مارکیٹ میں جانوروں کی تعداد نسبتاً کم تھی، یہی وجہ ہے کہ بیل کی قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ تھی۔

گزشتہ سال ایک مناسب بیل جس میں 3 من گوشت ہو اس کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ روپے تک تھی، اور عید سے ایک دن قبل جانوروں کی تعداد میں کمی ہونے کے باعث یہ قیمت ڈھائی لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کیا محلے داروں کی طرح ممالک بھی ایک دوسرے کو قربانی کا گوشت بھیجتے ہیں؟

جبکہ رواں سال یہ قیمت ڈھائی لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مساجد نے 7 حصوں کے بیل میں ایک حصے کی قیمت 25 سے 28 ہزار ہزار روپے مقرر کی ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کو بیل کی قربانی کرنا پسند ہے۔ چونکہ بیل میں 7 افراد کے حصے ہوتے ہیں اس لیے بڑی رقم کا بیل لینا زیادہ مشکل بھی نہیں ہوتا ہے۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں کیٹل فارمز موجود ہیں جہاں بڑے جانوروں کو پورا سال پالا جاتا ہے اور عید پر فروخت کردیا جاتا ہے۔ ان فارمز پر شوقیہ رکھے گئے بیلوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک ہے جبکہ کراچی میں چند بیلوں کی قیمتوں ایک کروڑ روپے سے بھی زائد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بقر عید بکرا بیل قربانی گائے مہنگائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیل گائے مہنگائی ہزار روپے سے لاکھ روپے تک جانوروں کی گزشتہ سال کی قربانی کرتے ہیں جاتا ہے کی قیمت

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی