ملک معاشی بحران سے نکل آیا ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف دیں گے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیں گے۔
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک معاشی بحران سے باہر نکل آیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ سندھ، ایم کیو رہنماؤں اور صنعت کاروں سے ملاقات کی اور ان سے ایک عوام دوست بجٹ لانے کے حوالے سے تجاویز لیں۔
یہ ھی پڑھیے: معاشی اشاریے بہتر، لیکن کیا عوام کو بھی کوئی فائدہ ہوگا؟
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رانا ثنا اللہ کا ایم کیو ایم کے ساتھ بیٹھنے اور اربن پراجیکٹس پر گفتگو کرنے پر شکریہ ادا کیا جنہیں بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے سینیئر ڈپٹی کنونیئر فاروق ستار نے کہا کہ ہماری ملاقات اور گفتگو میں آئندہ مالی سال عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر زور دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ عوام کو ایم کیو
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔