پنجاب حکومت کی اتحادی پی پی نے مجوزہ لوکل گورنمنٹ بل مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی نے مجوزہ پنجاب لوکل گورنمنٹ بل پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مجوزہ پنجاب لوکل گورنمنٹ بل پر جنرل سیکریٹری پیپلز پارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل میں بلدیاتی نمائندوں کو نوکر شاہی کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو اختیارات کا گھنٹہ گھر بنانا مقامی نظام کی نفی ہے۔
حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ڈی سی کے اختیارات کو چیک کرنے کے لیے کوئی منتخب نمائندہ موجود نہیں ہوگا اور اختیارات کی نچلی سطح تک آپشنل منتقلی صوبائی حکومت کی مرضی پر ہو گی۔ نئے بل کے تحت ڈپٹی کمشنر حلقہ بندیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا اصل مقصد مخالف سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں کو بے اختیار کرنا ہے۔ ن لیگ لولہ لنگڑا بل لا کر مقامی حکومتیں قائم کرنیکا تاثر دینا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی با اختیار عوامی نمائندوں کے بغیر لوکل گورنمنٹ بل قبول نہیں کریگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گورنر ہاؤس لاہور میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی کو آرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاور شیئرنگ فارمولے اور گورننس سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی تھی۔
اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے پنجاب میں جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل، اسلام آباد کے اہم کھلاڑی اچانک لیگ چھوڑ گئے، وجہ کیا بنی؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ بل پیپلز پارٹی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔