اسرائیلی حملوں میں ایران کے مزید 3 جوہری سائنسدان شہید
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل کے تازہ حملے میں مزید 3 ایرانی جوہری سائنسدان شہید ہوگئے جس کے بعد شہید ہونے والے سائنسدانوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی تازہ جارحیت کے نتیجے میں ایران کے مزید تین نامور جوہری ماہرین جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں، جس کے بعد شہید ہونے والے ایٹمی سائنسدانوں کی مجموعی تعداد نو ہو چکی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں کیا گیا، جہاں ایک حساس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی زد میں آ کر سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے تین اہلکار بھی شہید ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ ایران کے دفاعی اور سائنسی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش بھی ہیں۔ تہران نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا سختی سے نوٹس لے اور اسرائیلی جارحیت کو لگام دی جائے۔
ایران نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ شہید ہونے والے سائنسدانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ہاد رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر جوابی حملے میں شدید میزائل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 5 مقامات پر شدید تباہی ہوئی۔ حملوں کے دوران ایک 32 منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے عمارت کو بری طرح لپیٹ میں لے لیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق وسطی اسرائیل میں بھی 9 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، ان حملوں سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے اور متاثرین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3 کے تحت ایران نے اسرائیل میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی میں اب تک 300 سے زائد میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔