Jasarat News:
2026-07-24@01:52:16 GMT

اسرائیلی حملوں میں ایران کے مزید 3 جوہری سائنسدان شہید

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیل کے تازہ حملے میں مزید 3 ایرانی جوہری سائنسدان شہید ہوگئے جس کے بعد شہید ہونے والے سائنسدانوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی تازہ جارحیت کے نتیجے میں ایران کے مزید تین نامور جوہری ماہرین جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں، جس کے بعد شہید ہونے والے ایٹمی سائنسدانوں کی مجموعی تعداد نو ہو چکی ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں کیا گیا، جہاں ایک حساس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی زد میں آ کر سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے تین اہلکار بھی شہید ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ ایران کے دفاعی اور سائنسی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش بھی ہیں۔ تہران نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا سختی سے نوٹس لے اور اسرائیلی جارحیت کو لگام دی جائے۔

ایران نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ شہید ہونے والے سائنسدانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ہاد رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر جوابی حملے میں شدید میزائل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 5 مقامات پر شدید تباہی ہوئی۔ حملوں کے دوران ایک 32 منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے عمارت کو بری طرح لپیٹ میں لے لیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق وسطی اسرائیل میں بھی 9 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، ان حملوں سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے اور متاثرین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3 کے تحت ایران نے اسرائیل میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی میں اب تک 300 سے زائد میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل بھی شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ایران کے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم