تہران(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 جون ۔2025 )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اقدامات کرے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ گفتگو میں عراقچی نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر فوجی اڈوں، جوہری تنصیبات، اور رہائشی عمارات شامل پر حملوں کی تفصیلات فراہم کیں.

(جاری ہے)

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات ایران کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کے علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اعلیٰ سفارت کار نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے . عراقچی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کے تحت فوری کارروائی کرے، اسرائیلی حملوں کی مذمت کرے اور اس کو جوابدہ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے دوسری جانب انتونیو گوتریس نے حملوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کی مذمت کی اور عزم ظاہر کیا کہ اقوام متحدہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو بحال کیا جا سکے.

یادرہے کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز فضائی حملوں میں ایران کے اعلیٰ عسکری قیادت کو بھی ہدف بنایا ایران کی مسلح افواج کے چیئرمین میجر جنرل محمد باقری اور اسلامی انقلابی گارڈز کور کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ان حملوں میں شہیدہوئے. اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی کے طور پر اسرائیل کے متعدداہم علاقوں‘فوجی تنصیبات اور دیگر علاقوں کو بلیسٹک میزائلوں اور ڈرونزسے نشانہ بنایا ‘اسرائیل کے اشتعال انگیزحملوں کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی برقرارہے اسرائیل نے حملوں کو طویل مہم کا آغاز جبکہ ایران نے جوابی حملے جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے روس نے خطرناک نتائج سے خبردارکرتے ہوئے فریقین کو ثالثی کی پیشکش کی ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم