Express News:
2026-06-03@02:47:31 GMT

سفید شیر

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

صاحب‘ بالکل بھی فکر مند نہیں تھے۔ بڑے آرام سے سگار سلگا رہے تھے۔ بیس ایکڑ پر محیط فارم ہاؤس میں کافی خاموشی تھی۔ حیرانی یہ تھی کہ دو ماہ سے پاکستان میں قیام پذیر تھے۔ کم از کم مجھے معلوم نہیں تھا کہ شہر ہی میں ہیں۔ چند دن قبل ‘ ہونے والی یہ ملاقات ہرگز ہرگز معمول کا حصہ نہیں تھی۔ کبھی ایسے ہوا نہیں‘ کہ صاحب‘ لاہور ہی میں ہوں اور آتے ہی مجھ سے بات نہ ہوئی ہو۔ مگر یہ معاملہ چونکا دینے والا تھا کہ تقریباً ساٹھ دن سے یہیں پر موجود تھے اورکسی قسم کا کوئی رابطہ نہ ہو پایا تھا۔ بہر حال‘ پہلے دس منٹ کوئی گفتگو نہ ہوئی۔

صاحب‘ نے مجھ سے پوچھا کہ جو سگار میں دھواں میں اڑا رہا ہوں‘ اس کی قیمت معلوم ہے۔ اندازہ سے بتایا کہ دس بارہ لاکھ کا ہو گا۔ سنجیدگی سے کہنے لگے کہ یہ Gurkha Royal Courteson Cigarہے۔ ایک سگار کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ کوفت ہونے لگی- ایسے معلوم پڑا کہ صاحب‘ مبالغہ آرائی کر رہے ہیں۔ ایک سگار کی قیمت کروڑوں میں ہو گی؟ میرے ذہن میں سوال تھا کہ اتنی زیادہ قیمت کیسے ہو سکتی ہے۔ خیر مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں آئی۔ اگلا جملہ کافی سنجیدہ تھا۔ میںنے گزشتہ چند ہفتوں میں آپ کے ملک سے حد درجہ ڈالر کمائے ہیں۔ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ کتنے ہیں۔ مگر یہ ضرور کہوں گا کہ عام کاروباری لوگوں کی سوچ سے بھی زیادہ ۔ مگر کیسے؟ میرے اس سوال پر قطعاً مسکرائے نہیں۔ دیکھو ڈاکٹر ‘ جہاں بھی جنگ ہوتی ہے یا جنگ کے امکانات مصمم نظر آتے ہیں۔ وہاں‘ نظام میں دفاعی معاملات‘ ہر امر پر سبقت لے جاتے ہیں۔ نظر نہ آنے والے خزانوں کے مونہہ مجبوری میں کھول دیے جاتے ہیں۔

دنیا کے معدودے چند سوداگر‘ اس نازک موڑ پر بلا تردد ‘ خرید و فروخت کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں حکومتیں‘ وطن پرستی جرأت و شجاعت اور فتح کے ایسے فقرے پڑھتی ہیں کہ عام لوگ‘ فلاح و بہبود کو نظر انداز کر کے‘ مہنگی ترین جنگ میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ اور ہاں! میں تو قریبی دشمن ممالک جو ایک دوسرے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ سب کے حکمران طبقے سے دوستی رکھتا ہوں۔ دونوں متحارب فریقین کو ان کا من پسند اسلحہ فراہم کرتا ہوں۔ طاقتور لوگوں کی جائز اور ناجائز خواہشات کو آسودہ کرتا ہوں۔ کثیر منافع کما کر نکل جاتا ہوں۔ جنگ‘ میرے لیے ایک نعمت ہے۔بلکہ میرے لیے کیا پوری دنیا میں جنگ کے شعبے سے منسلک ہر کاروباری شخص کی بہترین خواہش ہے۔ مگر اس میں تو‘ ملک اپنے بہترین لوگ گنوا دیتا ہے؟ اس سوال پر ‘ صاحب نے مجھے غور سے دیکھا۔ کہنے لگے ‘ پوری دنیا کی افواج پر تنقیدی نظر ڈالو۔ اس میں حکمران طبقے کا کوئی فرد نہیں ملے گا۔

چلو امریکا‘ روس‘چین کی مثال لے لوں۔ ٹرمپ‘ پوٹن اور زی چنگ ین کا بیٹا‘ بیٹی ‘ یا داماد نظر نہیں آئے گا۔ اکثریت درمیانے یا غریب طبقہ کے لوگ ہوں گے ۔ جو اپنے بہتر مستقبل کے لیے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں۔ اور پھر انھیں ‘ نعروں کی بنیاد پر بتایا جاتا ہے کہ ایک ایسی موت تمہاری منتظر ہے جس میں عظمت ہی عظمت ہے۔ کم از کم ‘ میں نے کبھی اس نظریے سے دنیا کی کسی بھی عسکری طاقت کو پرکھا نہیں تھا۔ خیر مجھے ‘ سوچ میں پڑتا دیکھ کر صاحب‘ مسکرا کر کہنے لگے۔ کہ فرانس کے صدر‘ سرکوزی کانام سنا ہوا ہے۔ اس کے حالات جانتے ہو۔ وہ ‘ دو مقدمات میں سزا یافتہ ہے۔

کہنے کو تو اس نے ایک جج کو مراعات دی تھیں۔ اور اس کے بدلے میں اپنے خلاف‘ ایک تفتیش میں مدد حاصل کی تھی۔ مگر اصلیت میں‘ سرکوزی سے چند اہم اور امیر لوگ ناراض ہو گئے تھے۔ جنھوں نے اس کی الیکشن مہم میں کافی سرمایہ فراہم کیا تھا۔ بدلے میں کافی ٹھیکے حاصل کیے تھے۔

سرکوزی نے جب ان طاقتور لوگوں سے اپنے وعدے پورے نہیں کیے تھے۔ اسی وقت سے‘ ان دیکھے نظام کی بائیں طرف آ گیا تھا۔ اوراب سالہا سال سے ذلت و رسوائی میں مبتلا ہے۔ مگر آپ کا ‘ فرانس کے سیاسی معاملات سے کیا تعلق؟ صاحب نے اس بے ساختہ سوال پر ہنسنا شروع کر دیا۔ واقعی میرا کوئی تعلق نہیں۔ مگر میں جس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس کا تو دنیا کے تمام حکمران طبقے سے مفادات کا گہراتعلق ہوتا ہے۔ خیر اس معاملہ پر آگے کوئی بات نہیں ہوئی۔

ہم دونوں ‘ اسٹڈی روم سے نکل کر باہر لان میں آ گئے۔ انگریز ملازم بڑی جانفشانی سے خدمات پر مامور تھے۔ پورے نظم وضبط کے ساتھ‘ تراشے ہوئے گھاس پر پھولدار کرسیاں رکھ رہے تھے۔ صاحب نے ‘اٹلی کے تراشے ہوئے گلاس میں ’’آتشیں سیال‘‘ انڈیلا۔ برف ڈال کر خاموشی سے چسکیاں لینے لگے۔ اتنی دیر میں ایک ملازم آیا۔ اس کے ساتھ سفید رنگ کا بہت بڑا شیر تھا۔ سفید بال اور مہیب سا جبڑا۔ اس کی سانس لینے کی آواز ایسے آ رہی تھی جیسے دھونکنی چل رہی ہے۔

میرے اندر خوف کی ایک لہر بہرحال موجود تھی۔ کیونکہ کسی بھی شیر کو اتنے قریب سے دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ شیر‘ صاحب کے قدموں میں ایسے بیٹھ گیا جیسے ایک پالتو بلی ہو۔ ڈاکٹر ‘ یہ شیروں کی نایاب نسل ہے۔ جو دراصل Albinoہیں۔ سفید رنگ کے یہ جانور بہت قیمتی ہیں۔ اور میں نے ان کی افزائش نسل کے لیے‘ اس فارم ہاؤس میں الگ نرسری قائم کی ہے۔ اب تقریباً تیس کے لگ بھگ شیر اور شیرنیاں موجود ہیں۔

ان میں سے اکثر تو بالکل جنگلی سے ہیں۔ مگر تین نر شیروں کو میرے اسٹاف نے سدھا رکھاہے۔ ان میں اور کسی پالتو جانور میں کوئی فرق نہیں۔ یہ دیکھنے میں توبہت ڈراؤنے سے معلوم پڑتے ہیں۔ مگر ان کے اندر کسی قسم کے حملے کی کوئی رمق نہیں ہوتی۔ مجھے اس سفید شیر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ملازم ‘ کو صاحب نے اشارہ کیا۔ اور وہ بڑے اطمینان سے اس جانور کو واپس لے گیا۔ ڈاکٹر ‘ ایک بات کہوں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی اشرافیہ ‘ بالکل‘ اس پالتو شیر کی طرح ہوتی ہے۔ یہ گوشت کھاتے ہیں۔ اشرافیہ‘ پیسے اور خفیہ جائیداد پر چلتی ہے۔ جب تک دونوں کو ان کی مخصوص غذا ملتی رہے‘ پالتو ہی رہتے ہیں۔ اور یہ غذا‘ میرے جیسے لوگوں کے پاس وافر تعداد میں موجود ہوتی ہے۔

دنیا کا مالیاتی نظام‘ جائز اور ناجائز پیسے میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ اس کا مقصد‘ صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے۔ وہ کہاں سے آ رہا ہے۔ اس میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ یہ تمام معاملہ میرے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا کام ہے۔ بہت قلیل وقت میں جہاں بھی ڈالر بھجوانے ہوں‘ فوراً پہنچ جاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان پتہ بھی نہیں چلتا۔ پوری دنیا میں حکمران طبقہ‘ پیسے کی غذا کھاتا ہے۔کوئی میرٹ کا نام لے کر‘ کوئی شفافیت کا نعرہ بلند کر کے اور کوئی ملکی ترقی کا خواب دکھا کر۔ مقصد صرف ایک ہی ہوتاہے۔ ہاں‘ عوام میں اپنا امیج بہتر رکھنے کے لیے فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے کہ حواری اپنا حصہ وصول کرتے رہیں۔

دولت‘ ہاتھ بدلتی رہے۔ اور نزدیکی حلقہ بھی مطمئن رہے۔ یہ سب کچھ ازل سے ہوتا آ رہا ہے ۔ مگر اب اس نے ایک آرٹ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دراصل جو ایمانداری کے سب سے بلند و بانگ وعدے کرے گا‘ وہ اتنا ہی بے ایمان ہو گا۔ مسلمان ممالک کے حکمران تو خیر‘ پیسے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مگر مجموعی طور پر پوری دنیا میں تقریباً ایک جیسا معاملہ چل رہاہے۔ بس طریقہ کار کا فرق ہے۔ اور وہ بھی معمولی سا۔

اور ہاں ‘ ڈاکٹر ایک بار ناجائز دولت کا بہاؤ اپنی طرف ہو جائے‘ تو انسان مکمل طور پر تساہل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے مثبت کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ وہ ہر وقت easy monyکے لیے‘ مستعد نظر آتا ہے۔ انسانوں کو رہنے دو۔ جانوروں میں بھی یہی حال ہے۔ خونخوار ترین درندوں کو جب آرام سے گوشت مل جاتا ہے ۔ تو وہ بھی شکار یا محنت کرنے کے عادی نہیں رہتے۔ صاحب‘ نے کہا‘ کہ آؤ ذرا سفید شیروں کی نرسری دیکھتے ہیں۔ وہاں گئے تو کافی نر اور مادہ شیر‘ بڑے بڑے پنجروں میں موجود تھے۔ ہمیں دیکھ کر ‘ انھوںنے کسی قسم کا رد عمل نہیں دیا۔ صاحب کہنے لگے کہ میرے پاس صرف تین ایسے شیر ہیں جنھیں ملازموں نے مانوس کر رکھا ہے۔

اب وہ مکمل طور پر بے ضرر چوہے بن چکے ہیں۔ دوڑ کر گوشت کھانے سے بھی قاصر ہیں۔ صاحب ان تین شیروں کے پنجرے کی طرف گئے۔ نوکر کو اشارہ کیا۔ تو ایک میمنے کو لے کر آئے۔ اسے پنجرے میں ڈال دیا۔ صاحب کہنے لگے کہ یہ میمنہ بالکل محفوظ ہے۔ میں ظالم ضرور ہوں۔ پر اتنا ظالم نہیں کہ معصوم سے بکری کے بچے کی بلی چڑھا دوں۔ شیر‘ اب اتنے آرام طلب ہو چکے ہیں۔ کہ ہل جل کر کے ‘ اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ میمنہ پنجرے میں بیٹھا رہا اور پھر آرام سے باہر آ گیا۔ صاحب نے نوکر کو اشارہ کیا۔ تو اس نے گوشت کے ٹکڑے شیروں کے سامنے ڈال دیے۔ شیر‘ مزے سے ان ٹکڑوں پر پل پڑے۔ صاحب نے غور سے مجھے دیکھا اور کہا‘ کہ تیسری دنیا کی اشرافیہ ‘ ہمارے لیے بے ضرر شیر جیسی ہے۔ مکمل طور پر پالتو!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پوری دنیا میں کہنے لگے جاتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا