Express News:
2026-06-03@00:44:22 GMT

دیکھا جنھیں پلٹ کے

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

' عطا الحق قاسمی پاکستان کے سب سے بڑے ادیب ہیں۔' مخدومی مجیب الرحمن شامی نے یہ کہا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ واقعہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی میں' دیکھا جنھیں پلٹ کے' کی تقریب اجرا کے موقع پر پیش آیا۔ ڈاکٹر نوید الٰہی اور میں نے ایوان صدر میں ایک ساتھ کام کیا ہے۔ مرحوم و مغفور صدر ممنون حسین فرمایا کرتے تھے کہ تم دونوں میں ایسی دوستی ہے کہ بعض اوقات ڈر لگتا ہے۔

صدر صاحب کو ڈر کس بات کا لگتا تھا؟ یہ بات صیغہ راز میں ہی رہے تو بہتر ہے لیکن اتنا کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ خود صاحب ایوان کے ایوان میں بھی کچھ عناصر کچھ عجیب و غریب مقاصد کے لیے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ' بزرگ ' جو کرنا چاہتے ہیں، نہ کر سکیں۔

ایوان صدر کے زمانے میں صدر مملکت کو ان کی عدم موجودگی میں ہم لوگ احترام اور محبت سے بزرگ کے لفظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب علامہ خادم حسین رضوی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کیا کرتے تھے۔ ان دنوں ایک سازش تیار ہوئی تا کہ ریاست کی پالیسی کے خلاف صدر مملکت سے کچھ مشکوک افراد کی ملاقات کرا دی جائے تاکہ بحران پیدا ہو جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوید الٰہی سینہ تان کر کھڑے ہو گئے کہ اوور مائی ڈیڈ باڈی۔ اس جہاد میں انھیں میرا تعاون حاصل تھا۔ اسی طرح جب میں کوئی اسٹینڈ لیتا تو ڈاکٹر نوید الٰہی میری پشت پر کھڑے ہو جاتے۔

صدر صاحب اس ' جوڑی' کی کارکردگی سے خوش تھے اور وہ ہماری پیٹھ بھی تھپکا کرتے تھے لیکن مسکراتے ہوئے یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جوش و جذبے میں کہیں کوئی ریڈ لائن عبور نہ کر جانا۔ صدر صاحب بس اسی بات سے ڈرتے تھے لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہو گا، بس بزرگانہ شفقت سے نصیحت اور یاد دہانی ضروری سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر نوید اور میں جب کبھی اکٹھے ہوتے ہیں تو ہم اس خوش گوار زمانے کو خوش دلی سے یاد کیا کرتے ہیں۔

اس روز بھی ان یادوں نے غلبہ کیا لیکن کم کم۔ سبب اس کا میری تازہ کتاب تھی۔ میرا خاکوں کا دوسرا مجموعہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا لیکن میری توجہ حضرت داتا گنج بخش علیہ رحمہ کی حکایات پر مرکوز تھی لیکن بھلا ہو علامہ عبد الستار عاصم اور برادرم عرفان جعفر خان کا۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ حکایات پر آپ کام جاری رکھیں، بس خاکے ہمارے سپرد کر دیں۔

یہ کام اتنا آسان نہ تھا لیکن اس کے باوجود مجھے ان کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ عرفان جعفر خان نے پروف ریڈنگ کا پہلا مرحلہ سر کر کے میرا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی تو علامہ نے یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کی کہ اس کتاب کے لیے تو محنت بھی نہیں کرنی پڑے گی، ہاتھوں ہاتھ نکل جائے گی۔ علامہ کی زبان مبارک ثابت ہوئی۔ اللہ کے فضل و کرم سے کتاب کی توقع سے بڑھ کر پزیرائی ہوئی۔ اب علامہ اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

خیر، بات دور جا نکلی۔ ' دیکھا جنھیں پلٹ کے' جیسے ہی ڈاکٹر نوید الٰہی  کے پاس پہنچی، انھوں نے مجھے لاہور طلب کر لیا اور بتایا کہ ان کے باوقار ادارے میں کتاب پر نشست ہوگی۔ نیشنل انسٹیٹوٹ آف پبلک پالیسی ڈگری ایوارڈنگ ادارہ ہے، توقع ہے کہ جلد اسے یونیورسٹی کا چارٹر بھی مل جائے گا۔ اس ادارے کی ذمے داری سینیٹر بیوروکریسی کی تربیت ہے جس سے گزر کر سرکاری افسران ترقی پاتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ نوکر شاہی سے کشتی لڑنے والے ایک شدھ سرکاری ادارے میں ادب کا کیا کام؟ یہ سوال صرف میرے ذہن میں نہیں تھا، حاضرین کی بڑی تعداد بھی اسی انداز میں سوچ رہی تھی۔

انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر جمیل آفاقی نے اپنی خوب صورت تقریر میں اس سوال کا دلوں میں خوشی بھر دینے والا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کارپردازان ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے سمیٹنے کی شعوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا ایک طریقہ لٹریچر اور ادب کا مطالعہ بھی ہے۔ ہمارے بیوروکریٹ مطالعہ کرتے تو ہیں لیکن ان کی توجہ انگریزی پر ہوتی ہے۔ ہم انھیں قومی زبانوں اور خاص طور پر اردو ادب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ' دیکھا جنھیں پلٹ کے' کا ذکر بڑی محبت سے کیا اور بتایا کہ اس میں شامل خاکے صرف ادب ہی نہیں ہیں بلکہ قومی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ کتاب ہر شہری کے لیے خاص طور پر کارپردازان ریاست کے لیے مفید ہے۔

مخدومی مجیب الرحمن شامی نے اس موقع پر کتاب میں شامل نوابزادہ لیاقت علی خان، مشاہد اللہ خان اور جاوید ہاشمی سمیت کئی خاکوں کا تفصیل سے جائزہ لے کر تاریخ کی کئی گتھیاں سلجھائیں اور کلمات محبت سے میرا حوصلہ بڑھایا۔ شامی صاحب خطاب کے لیے روسٹرم پر تشریف لائے تو اس موقع پر باہمی احترام اور تہذیب نفس کا ایک خوب صورت مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ مخدومی عطا الحق قاسمی نے اصرار کیا کہ شامی صاحب کے احترام کا تقاضا ہے کہ وہ ان سے پہلے تقریر کریں لیکن شامی صاحب نے یہ کہہ کر فیصلہ کر دیا کہ قاسمی صاحب ملک کے سب سے بڑے ادیب ہیں جنھوں نے کلمہ حق کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ پرجوش تالیوں سے شامی صاحب کو حاضرین کی تائید بھی حاصل ہو گئی۔

میرے استاد گرامی ڈاکٹر طاہر مسعود فرمایا کرتے ہیں کہ قاسمی صاحب محبتیں بانٹنے والے بزرگ ہیں اور ان کی محبت غیر مشروط ہوتی ہے۔ مجھے اس کا دیرینہ تجربہ ہے۔ اس بار بھی میں ان کی محبت سے فیض یاب ہوا۔ انھوں نے میری تحریروں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی فرمائی اور کہا کہ فاروق کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنھیں پبلک ریلیشنگ کا ہنر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود لوگ اس کے لیے جمع ہو جاتے ہیں تو اس کا سبب اس کے مزاج کی عاجزی ہے۔ قاسمی صاحب کو جب یہ کتاب ملی تو انھوں نے فرمایا تھا:

' میاں محمد بخش کی سیف الملوک پڑھنے لگیں تو یہ داستان ہاتھ سے رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ فاروق عادل کی کتاب 'دیکھاجنھیں پلٹ کے'میں شامل شخصی خاکے بالکل ایسے ہی ہیں۔میں نے یہ کتاب تکیے تلے رکھی ہوئی ہے۔ روز ایک خاکہ پڑھتا ہوں اور اس شخص کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہوں جس کا خاکہ فاروق عادل لکھتا ہے۔'

این آئی ایس پی پی کی تقریب میں بہت سے دوستوں جیسے طیب اعجاز قریشی، جناب خالد محمود رسول، ڈاکٹر ابو الوفا محمود، اسعد چغتائی، عامر محمود چیمہ، ابو بکر قدوسی، ڈاکٹر وقار ملک، سجاد انور،چوہدری عبد الغفور، پیر ضیا الحق نقش بندی، اینکر رمضان شیخ اور جمشید علی خان نے شرکت کی۔ جمشید صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو میرے ادبی سفر کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔

وہ گفتگو کے دھنی ہیں، وہ کہیں اور سنا کرے کوئی والی بات ان پر صادق آتی ہے لیکن لاہور میں آ کر وہ کچھ گوشہ نشین سے ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، پروفیسر سلیم منصور خالد، جامعہ پنجاب کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود، برادر محترم سلمان غنی، ڈاکٹر نوید الٰہی اور ڈاکٹر سیف سمیت بہت سے احباب نے اظہار خیال کیا جس پر ان سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

شامی صاحب کا کہنا تھا کہ بہت دنوں کے بعد لاہور میں ایسی تقریب ہوئی ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تقریب کے بعد بھی اس کے ' آفٹر ایفکٹس' جاری رہے۔ مخدومی مجیب الرحمن شامی نے جم خانہ میں ایک نشست کی جس میں عطا الحق قاسمی، حفیظ اللہ نیازی، اکرم شیخ ایڈووکیٹ، سہیل وڑائچ، ڈاکٹر آصف ریاض قدیر، برادران عمر مجیب شامی اور عمر مجیب شامی سمیت دیگر احباب شریک ہوئے۔

چوہدری عبد الغفور صاحب نے فلیٹیز ہوٹل میں مجلس سجائی جس میں قبلہ شامی صاحب، جناب لیاقت بلوچ، آغا مسعود شورش، ایثار رانا اور دیگر احباب شریک ہوئے ۔جب کہ پیر ضیاء الحق نقش بندی صاحب اور برادرم محمد حسان نے اپنے اپنے چینلوں پر کتاب کے بارے میں گفتگو کا اہتمام کیا۔ حقیقت یہ ہے لاہور علم و ادب کا دارالحکومت ہے۔ اس شہر کی علمی سرگرمیوں کی اپنی ہی شان ہے۔ خطہ لاہور! تیری رونقیں دائم آباد۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر نوید ال ہی انھوں نے کرتے تھے تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود