غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے لے کر اب تک جنگ بندی کی 80 بار خلاف ورزیاں کی ہیں۔

غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں 97 فلسطینی شہید اور 230 زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ کے میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی اقدامات اس کے جارحانہ رویے اور خون خرابے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کو حماس کی جانب سے مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ردِعمل قرار دیا گیا ہے تاہم حماس نے اِن الزامات کی تردید کی ہے۔

اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے، یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صورتحال مکمل طور پر پُرامن رہے، اگر حماس نے کچھ کیا تو سخت لیکن مناسب انداز میں نمٹا جائے گا۔

اس معاملے پر امریکی نائب صدر، جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے سے قبل غزہ میں سیکیورٹی انفراسٹرکچر قائم کرنا ضروری ہے، خلیجی عرب ممالک کے امن دستے غزہ میں تعینات ہوں تاکہ قانون و نظم اور سیکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان