بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی رکن پنجاب اسمبلی کی گھڑی کیسے چوری ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی رکن بلال یامین کی گھڑی چوری کا واقعہ 16 جون کو اس وقت پیش آیا، جب صوبہ پنجاب کا بجٹ پیش کیا جارہا تھا جبکہ اپوزیشن اراکین وزیر اعلیٰ مریم نواز کی موجودگی میں احتجاج کر رہے تھے۔
حکومتی اراکین وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کے گرد حفاظتی دیوار بن کر کھڑے تھے اور ساتھ میں اپوزیشن کے احتجاج اور نعروں کا جواب دے رہے تھے، اسی دوران حکومتی ایم پی اے بلال یامین نے اپنے ہاتھ سے گھڑی اتاری اور اپوزیشن کو گھڑی چور ،گھڑی چور کے نعرے لگانے لگے۔
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن رکن اعجاز شفیع لیڈر آف دی ہاؤس مریم نواز کی جانب بڑھنے لگے تو حکومتی اراکین نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا، بلال یامین اور اعجاز شفیع کے درمیان پہلے تلخ کلامی اور پھر سخت جملوں کا استعمال اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں:
اسی اثنا میں حکومتی رکن اسمبلی بلال یامین کی گھڑی چوری ہوگی جو وہ لہرا لہرا کر اپوزیشن کو دیکھا رہے تھے، بلال یامین نے اجلاس کے بعد واقعے کا نوٹس لینے کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کو تحریری طور پر درخواست جمع کروائی اور اپنا ویڈیو بیان بھی جاری کردیا۔
جس میں انہوں نے کہا کہ بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن رکن اعجاز شفیع ڈیسک پر کھڑے تھے، میں نے انہیں نیچے اترنے کی درخواست کی تو ان سے تلخ کلامی ہو گئی، بعد ازاں تلخ کلامی ہاتھا پائی میں بدلی تو اسی دوران اعجاز شفیع کے ہاتھ سے میری گھڑی اتر گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی گھڑی اپوزیشن رکن اعجاز شیفع نے چوری کر لی ہے، لہذا اسپیکر پنجاب اسمبلی اس معاملے کا نوٹس لیں۔
مزید پڑھیں:
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے بلال یامین کی پنجاب اسمبلی اجلاس میں گھڑی چوری ہونے پر اپنے بیان میں کہا کہ پھر سے گھڑی چوری اور وہ بھی اسمبلی سے، تحریک انصاف اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گی کیونکہ چوریاں کرنا تحریک انصاف کی قیادت کا پرانا شیوہ ہے۔
اپوزیشن رکن اسمبلی کا جوابپی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع نے بلال یامین کے الزام کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا سامنا کرنے کا کہا انہوں نے بتایا کہ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی وزیر خزانہ کی تقریر کے آغاز پر ہوئی، اس کے بعد ڈھائی گھنٹے تک ہمارا احتجاج جاری رہا لیکن بلال یامین نے اس دوران کوئی بات نہیں کی۔
’بعد میں میرے خلاف تحریری درخواست دے دی جس پر میں نے سیکریٹری اسمبلی کو کہا ہے کہ ایوان کے اندر لگے ہائی ریزولیوشن کیمروں کی ریکارڈنگ چیک کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔‘
مزید پڑھیں:
اعجاز شفیع کے مطابق حکومتی رکن بلال یامین نے اگر معافی نہ مانگی تو وہ ان کیخلاف تحریک استحقاق جمع کرائیں گے۔
اعجاز شفیع نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ایک سال کے بعد ایوان میں آئیں تو احتجاج کرنا ہمارا حق تھا اور ہم اپنا حق استعمال کر رہے تھے، یہ سب خود چور ہیں بلکہ ان کی پوری جماعت ہی چور ہے اور یہ الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔
’مجھے سیکرٹری اسمبلی یا اسپیکر پنجاب اسمبلی نے تحقیقات کے لیے بلایا تو میں بالکل اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے حاضر ہوں گا۔‘
اسپیکر تحقیقاتی کمیٹیاسپیکر کی تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا کہ کیمروں کی مدد سے ایوان میں ہونے والے ااحتجاج کے دوران جو گھڑی چوری کا الزام ،اپوزیشن رکن اسمبلی اعجاز شیفع پر حکومتی رکن نے لگایا تھا وہ غلط ہے، اپوزیشن رکن اسمبلی نے ان کی کوئی گھڑی چوری نہیں کی۔
کمیٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کے بعد حکومتی رکن بلال یامین نے گھڑی چوری کا جھوٹا الزام عائد کرنے پر ایوان میں میاں اعجاز شفیع سے معذرت کرلی۔
’مجھے اس وقت یہ محسوس ہوا کہ اعجاز شفیع نے میری گھڑی اتارلی ہے میں اسپیکر کی جانب سے اس معاملے پر قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ سے متفق ہوں، الزام کے باعث اعجاز شفیع کی دل آزاری ہوئی ہے تو ان سے بھی معذرت چاہتا ہوں۔‘
مزید پڑھیں:
جس کے بعد اپوزیشن رکن اسمبلی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سے کہا کہ حکومتی ارکان کو رولز اور تہذیب سکھانے کا بندوبست کریں اس طرح کے الزامات سے پگڑی اچھالنے کا سلسلہ غلط ہے۔
حکومتی رکن اسمبلی بلال یامین نے وی نیوز کو بتایا کہ سپیکر کی جانب سے گھڑی چوری کے معاملے پر بنائی جانے والی کمیٹی ابھی تک میری گھڑی تلاش نہیں کر سکی البتہ مجھے جس اپوزیشن رکن اسمبلی پر شک تھا وہ غلط تھا۔
’میرا اب بھی اسپیکر پنجاب اسمبلی سے مطالبہ ہے کہ مجھے میری گھڑی ڈھونڈ کر دی جائے اور چور کو بھی پکڑیں، یہ گھڑی میرے لیے بہت قمیتی ہے یہ گھڑی مجھے میرے والد نے میری شادی کے موقع پر پہنائی تھی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج اسپیکر پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع بلال یامین تحریک انصاف تحقیقاتی کمیٹی چوری سیکریٹری اسمبلی عظمیٰ بخاری گھڑی مریم نواز وزیر اطلاعات وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع بلال یامین تحریک انصاف تحقیقاتی کمیٹی چوری سیکریٹری اسمبلی گھڑی مریم نواز وزیر اطلاعات اسپیکر پنجاب اسمبلی اپوزیشن رکن اسمبلی بلال یامین نے اعجاز شفیع حکومتی رکن تلخ کلامی گھڑی چوری مریم نواز میری گھڑی کے دوران گھڑی چور کی گھڑی رہے تھے کہا کہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
سیکیورٹی فورسز نے آپریشن العزم کے تحت مستونگ میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گرد جہنم واصل کردیے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف بھرپور اور مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان میں مستونگ کےعلاقے کھڈ کوچہ میں کامیاب کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 4 دہشت گرد جہنم واصل کردیے گئے۔
کامیاب آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیرِ استعمال موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کر لیا۔
بلوچستان آپریشن العزم: مستونگ میں بڑی کامیابی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاکسیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی بھی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں دہشتگردوں کی مذموم کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔