بھارت میں فرانسیسی خاتون سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ادے پور: بھارتی ریاست راجستھان کے شہر ادے پور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں فرانس سے آئی ہوئی ایک 30 سالہ غیر ملکی خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، خاتون شہر میں ایک اشتہاری مہم کی شوٹنگ کے سلسلے میں موجود تھیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون کے ہمراہ ان کی دو سہیلیاں بھی تھیں، جو خود بھی ایونٹ مینجمنٹ فرم سے وابستہ اور سیاحتی دورے پر بھارت آئی ہوئی تھیں، اشتہاری مہم کا بندوبست انہی دونوں خواتین نے کیا تھا۔
ادے پور کے بڈگاؤں علاقے میں اتوار کی شام یہ تینوں خواتین ایونٹ فرم کے دیگر ارکان کے ہمراہ ایک ریسٹورنٹ گئیں، جہاں سب نے ایک ساتھ کھانا کھایا۔ تاہم، واپسی پر فرم سے وابستہ ایک رکن سدھارتھ عرف پشپا نے متاثرہ خاتون کو شہر کی سیر کا جھانسہ دیا اور اسے اپنے ہوٹل کے کمرے میں لے جا کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے اور واقعے کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ تاحال ملزم مفرور ہے، تاہم اس کی تلاش جاری ہے۔ ریسٹورنٹ اور ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے ملزم کا سراغ لگایا جا رہا ہے جبکہ موقع پر موجود گواہوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سفارت خانے کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور کیس کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری قانونی و سفارتی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔