پی ٹی آئی رہنما کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر کے رہنما اور وزیرجنگلات چوہدری اکمل سرگالہ نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری اکمل سرگالہ نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر سے ملاقات کی اور اس دوران شمولیت کا اعلان کیا۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اکمل سرگالہ کو پارلیمانی پارٹی میں شمولیت پر خیر مقدم کیا، مسلم لیگ(ن) کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم فاروق حیدر، عامر الطاف، نجیب نقی سمیت سینئر قیادت نے اکمل سرگالہ کو پارٹی میں شمولیت پر مبارک باد دی۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ اکمل سرگالہ 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں منتخب ہوئے تھے اور آج مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی قافلے میں شمولیت اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی عزت و تکریم کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔
اکمل سرگالہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نظریے کا نام ہے، ہمیشہ عوام کی خدمت کی اور آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت مسلم لیگ ن ہی بنائے گی۔
آزاد کشمیر کی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر فاروق حیدر نے چوہدری اکمل کو مبارک باد دی
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں شمولیت پی ٹی آئی مسلم لیگ
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔