Juraat:
2026-07-24@10:50:02 GMT

استاد کے بغیر معاشرہ ۔۔؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

استاد کے بغیر معاشرہ ۔۔؟

محمد آصف

انسانی معاشرت میں استاد کو ایک نہایت بلند اور قابلِ احترام مقام حاصل ہے ۔ استاد دراصل وہ شخصیت ہے جو انسان کے باطن میں علم، شعور، اخلاق اور کردار کی روشنی بھرتا ہے ۔ وہ محض علم کا مبلغ نہیں بلکہ کردار کا معمار اور معاشرے کی فکری بنیاد کا ستون ہے ۔ استاد کے بغیر معاشرہ تاریکی میں بھٹکتا ہے ، کیونکہ وہی وہ رہنما ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے ۔ اگر والدین انسان کو زندگی دیتے ہیں تو استاد اسے جینے کا سلیقہ عطا کرتا ہے ۔استاد کے بغیر معاشرہ ایک ایسی بستی کی مانند ہوتا ہے جس میں روشنی کے تمام چراغ بجھ چکے ہوں۔ استاد علم، شعور، اور تربیت کا وہ سرچشمہ ہے جو انسان کو جہالت، گمراہی اور اخلاقی زوال سے بچاتا ہے ۔ جب معاشرہ استاد سے خالی ہو جاتا ہے تو وہاں انصاف کے بجائے ظلم، علم کے بجائے جہالت، اور تہذیب کے بجائے بربریت پروان چڑھتی ہے ۔ استاد ہی وہ قوت ہے جو انسان کے اندر سوچنے ، سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ اگر استاد نہ ہو تو قومیں اندھی تقلید، مادیت، اور اخلاقی پستی میں ڈوب جاتی ہیں۔ دراصل استاد کے بغیر معاشرہ جسم کے بغیر روح، دریا کے بغیر پانی، اور چراغ کے بغیر روشنی کے مترادف ہے یعنی ایک زندہ لاش، جو حرکت تو کرتی ہے مگر سمت اور شعور سے محروم ہوتی ہے ۔
اسلام میں استاد کے مقام و مرتبے کو نہایت بلند حیثیت حاصل ہے ۔ قرآنِ حکیم میں علم حاصل کرنے کی بارہا ترغیب دی گئی ہے اور اہلِ علم کی فضیلت کو واضح کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ;سورة الزمر: 9
ترجمہ:”کیا علم رکھنے والے اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں”؟
یہ آیت واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ علم کی دولت انسان کو مقام و عزت عطا کرتی ہے ، اور استاد وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اس دولت تک پہنچتا ہے ۔ نبی کریم ۖ نے بھی استاد کے مقام کو نہایت بلند فرمایا۔ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا:”میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں”۔ابنِ ماجہ
یہ ارشاد مبارک اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تعلیم و تربیت کا عمل نبوت کا تسلسل ہے ۔ نبی ۖنے اپنی امت کو نہ صرف علم سکھایا بلکہ اس کے ذریعے ایک صالح معاشرہ قائم کیا۔ اسی لیے ہر وہ شخص جو تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کرتا ہے ، دراصل نبوت کے ورثاء میں شامل ہے ۔ تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی علم و تربیت کو عزت دی گئی، معاشرہ ترقی یافتہ اور بااخلاق بنا، اور جب استاد کی قدر کم ہوئی تو قومیں زوال کا شکار ہو گئیں۔ مسلمانوں کی عروج کی بنیاد مدارس، اساتذہ اور علمی مراکز تھے ۔ بغداد، قرطبہ، دمشق، اور نیشاپور کے تعلیمی ادارے دنیا کے لیے مشعلِ راہ تھے ۔ وہاں کے اساتذہ نہ صرف علم دیتے تھے بلکہ طلبہ کے دلوں میں کردار و اخلاق کے چراغ جلاتے تھے ۔ استاد محض نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ انسان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچانتا اور انہیں نکھارتا ہے ۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کی سوچ، طرزِ عمل، حتیٰ کہ اس کی زندگی کے فیصلوں تک کو متاثر کرتا ہے ۔ استاد کی تربیت یافتہ نسل ہی آگے چل کر معاشرے کی رہنمائی کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سقراط، افلاطون، امام ابو حنیفہ، امام غزالی، مولانا روم، اور علامہ اقبال جیسے نام تاریخ میں زندہ ہیں، کیونکہ ان کے شاگردوں نے ان کے علم اور کردار کی خوشبو کو زمانوں تک پھیلایا۔علامہ اقبال نے استاد کی عظمت کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا کہ ”علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب” اور علم استاد کے بغیر گمراہی ہے صراط مستقیم نہیں ملتاشمع ہو یا پروانہ، سب کچھ استاد کی بدولت ہے ۔ اقبال کے نزدیک استاد وہ ہستی ہے جو شاگردوں کے دل میں عشقِ حق، خودی اور عمل کی روح پھونکتا ہے۔ وہ صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ شخصیت سازی کرتا ہے ۔آج کے دور میں جب مادیت نے زندگی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے ، استاد کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے ۔ جدید معاشرت میں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف تعلیم دے بلکہ تربیت بھی کرے ۔ مگر افسوس کہ موجودہ تعلیمی نظام نے استاد کو محض ”نوکری” تک محدود کر دیا ہے ۔تدریس کو عبادت سمجھنے کی بجائے ایک معاشی ضرورت بنا دیا گیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ استاد اور شاگرد کے درمیان روحانی تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔ اساتذہ کا وقار اسی وقت بحال ہو سکتا ہے۔جب معاشرہ دوبارہ یہ سمجھ لے کہ استاد صرف ملازم نہیں، بلکہ ایک رہبر اور روحانی قائد ہے ۔
پاکستان کے آئین اور معاشرتی اقدار میں بھی استاد کے احترام کی تاکید کی گئی ہے ۔ قومی شاعر اقبال، قائداعظم محمد علی جناح، اور علامہ شبلی نعمانی جیسے رہنماؤں نے تعلیم کو قوم کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ قائداعظم نے فرمایا تھا:”قوموں کی تعمیر تعلیم کے بغیر ممکن نہیں”، اور تعلیم استاد کے بغیر نامکمل ہے ۔یہ الفاظ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے مستقبل کا معمار ہے ۔ استاد کی تربیت یافتہ قوم ہمیشہ ترقی کرتی ہے ۔ جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے ، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب ملک تباہ ہو گیا تو وزیرِاعظم نے کہا:”ہماری عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں مگر ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، اس لیے ہم دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے” ۔یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قوموں کا اصل سرمایہ ان کے وسائل یا ہتھیار نہیں بلکہ ان کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں استاد کا احترام محض رسمی نہیں بلکہ عملی پہلو رکھتا ہے ۔ شاگرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے استاد کے سامنے ادب و انکسار سے پیش آئے ۔ حضرت علی نے فرمایا:”جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام بن گیا”۔
یہ قول بتاتا ہے کہ استاد کے لیے محبت، وفاداری اور احترام کی انتہا کیا ہونی چاہیے ۔ دوسری طرف استاد پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے شاگردوں کی فکری، اخلاقی، اور روحانی تربیت کرے ۔ استاد کا رویہ، گفتار، اور کردار خود ایک درسی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ شاگرد استاد کی باتوں سے زیادہ اس کے عمل سے سیکھتا ہے ۔ اگر استاد خود دیانت، سچائی، اور خلوص کا مظہر ہو تو اس کے شاگرد بھی انہی اوصاف کے حامل بن جاتے ہیں۔ ہمیں آج اس امر کی ضرورت ہے کہ استاد کو اس کا اصل مقام واپس دیا جائے ۔ اسے عزت، سہولیات، اور سماجی مقام دیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و جھجھک اپنی ذمہ داری ادا کر سکے ۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تربیت، تحقیق کی حوصلہ افزائی، اور شاگرد و استاد کے درمیان روحانی رشتہ دوبارہ قائم کرنا ناگزیر ہے ۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ استاد وہ درخت ہے جو خود دھوپ میں جل کر دوسروں کو سایہ دیتا ہے ۔ وہ وہ چراغ ہے جو خود کو پگھلا کر دوسروں کے لیے روشنی پیدا کرتا ہے ۔ اگر ہم ایک مہذب، باشعور، اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اساتذہ کو وہی مقام دینا ہوگا جو انہیں دینِ اسلام، تاریخِ انسانی، اور فطرت نے عطا کیا ہے ۔ استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے ، اور علم کی عزت انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے ۔ استاد کا مقام کسی لفظ یا تعریف میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ معاشرے کی روح، تہذیب کا محافظ، اور نسلوں کا معمار ہے ۔ اگر ہم استاد کو اس کا صحیح مقام دے دیں، تو یقیناً ہمارا معاشرہ جہالت، اخلاقی زوال اور بداعتمادی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی، علم، اور روشنی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: استاد کے بغیر معاشرہ ہے جو انسان میں استاد استاد کا استاد کو کہ استاد انسان کو استاد کی کرتی ہے کرتا ہے علم کی

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل