رواں سال کا پہلا ‘سپر مون’ آج نظر آئےگا، کیا پاکستان میں نظارہ ممکن ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رواں سال کا پہلا سپر مون آج آسمان پر دیکھا جا سکے گا۔
اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) کے ترجمان کے مطابق سپر مون کے وقت چاند زمین سے تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار میل کے فاصلے پر ہوگا، جس کے باعث یہ ایک معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں 6.
یہ شاندار منظر پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا۔ سپر مون سورج غروب ہونے کے فوراً بعد مشرقی افق پر طلوع ہوگا اور طلوعِ آفتاب سے قبل مغربی افق میں غروب ہو جائے گا۔
اسپارکو کے مطابق اس سال مزید دو سپر مونز بھی دکھائی دیں گے۔ سال کا سب سے روشن سپر مون 5 نومبر 2025 کو ہوگا، جبکہ تیسرا سپر مون 5 دسمبر کو دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین کے سب سے قریب آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ معمول سے زیادہ بڑا اور روشن نظر آتا ہے، اسی وجہ سے اسے “سپر مون” کہا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔