ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور، ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور، ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )اگلے سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرز نے کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا جبکہ ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کا بھی امکان ہے۔سلمان علی آغا ایشیا کپ میں خراب بیٹنگ اور ناقص کپتانی کے باعث تنقید کی زد میں رہے۔
ٹی ٹوئنٹی کپتان نے ایشیا کپ کی 7 اننگز میں 12 کی اوسط اور 80 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف 72 رنز بنائے جبکہ اہم مواقعوں پر وکٹ گنوائی۔ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کے مستقبل پر سوال کھڑا ہوگیا ہے، قومی سلیکٹرز نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو مد نظر رکھتے ہوئے سلمان علی کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہناہے کہ جنوبی افریقا کے خلاف وائٹ بال سیریز کے لیے اسکواڈز پر مشاورت شروع ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق جنوبی افریقا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے لیے بھی ٹیم میں 2 سے 3 تبدیلیاں متوقع ہیں، سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی اور نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا کے خلاف 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کی سیریز شیڈولڈ ہے۔پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ 28 اکتوبر کو راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز بھی ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراین پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا این پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہ افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ پاکستان دنیا کا واحد ملک جہاں سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو رہا ہے، سلمان اکرم راجا عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور ٹی ٹوئنٹی کپتان ٹیم میں
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔