تحریک انصاف کے 35 ایم پی اے اپوزیشن کو ووٹ دے سکتے ہیں، ہم نمبر پورا ہونے تک اپنے امیدوار کو مشکل میں نہیں ڈالیں گے: جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قریباً 35 ارکانِ اسمبلی اپوزیشن امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اپنے وزیراعلیٰ کے امیدوار کو اُس وقت تک میدان میں نہیں لائے گی جب تک نمبر گیم پوری طرح واضح نہ ہو جائے۔
’وی نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو میں کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت 3 دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک ایفیڈیویٹ گروپ، ایک عمران خان گروپ اور ایک علی امین گنڈاپور گروپ۔ اگر یہ تینوں گروپ متحد رہے تو حکومت برقرار رہ سکتی ہے، لیکن بکھرنے کی صورت میں اپوزیشن فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد اپوزیشن متحرک، کیا پختونخوا میں پی ٹی آئی نئی حکومت بنا سکے گی؟
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت میں مصروف ہیں اور خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتِحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بدل رہی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا اتحاد برقرار رہا تو حکومت کچھ عرصہ چل سکتی ہے، لیکن اگر دھڑے بندی بڑھی تو نیا سیاسی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ قریباً 35 ایم پی ایز ایسے ہیں جن کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ کسی اور کی مرضی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اگر یہ ارکان اپوزیشن کی طرف آ گئے تو نتائج یکسر بدل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور کے متبادل سہیل آفریدی ہی کیوں؟ شیر افضل مروت نے سوال اٹھا دیا
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اس وقت نمبر گیم مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔ ہم کسی کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ جب تک نمبر پورے نہیں ہوتے، ہم اپنا امیدوار مثلاً مولانا لطف الرحمن میدان میں نہیں اتاریں گے۔
جے یو آئی رہنما کے مطابق، اپوزیشن کا پشاور اجلاس اسی مقصد کے لیے ہو رہا ہے تاکہ وزن اور حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔ اگر موقع ملا اور صوبے میں امن و امان اور کرپشن پر قابو ممکن ہوا تو ذمہ داری قبول کی جا سکتی ہے، لیکن جلد بازی نقصان دہ ہوگی۔
مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کی ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی
انہوں نے علی امین گنڈاپور کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت سنگین ہے اور وہ ممکنہ طور پر طویل قانونی عمل سے گزریں گے۔ انہوں نے کسی سے بنا کے نہیں رکھی، نہ کسی کی عزت کی، اب جو بویا ہے وہی کاٹنا پڑے گا۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہیں، اور کوئی بھی فیصلہ مکمل مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن 3 دن سے خیبر پختونخوا میں ہیں، وہ خود حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، اسی بنیاد پر حتمی فیصلہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی جمعیت علمائے اسلام (ف) جے یو آئی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان کامران مرتضیٰ گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن جماعتیں پی ٹی ا ئی جمعیت علمائے اسلام ف جے یو ا ئی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کامران مرتضی گنڈاپور علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا پختونخوا میں کامران مرتضی پی ٹی آئی سکتے ہیں میں نہیں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی