ایف آئی اے اور یو این او ڈی سی کے درمیان تعاون سے گجرات میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے موضوع پر کمیونٹی آگاہی سیشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2025ء) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی)کے تعاون سے گجرات میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے موضوع پر ایک روزہ کمیونٹی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔اس سیشن میں نوجوانوں، مردوں، خواتین، واپس آنے والے افراد اور خواجہ سرا کمیونٹی کے اراکین کو انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت جیسے جرائم سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔
سیشن میں 104 شرکا نے شرکت کی جن میں ایف آئی اے گجرات سرکل کے افسران، تحفظ مرکز کے وکٹم سپورٹ افسران، سماجی بہبود، محنت، خواتین ترقی، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز، پنجاب پولیس اور مقامی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ خواجہ سرا برادری کی شمولیت نے شراکتی عمل اور مقامی سطح پر سماجی ہم آہنگی کے عزم کو اجاگر کیا۔(جاری ہے)
ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کے ڈائریکٹر محمد بن اشرف نے شرکا کو محفوظ اور باخبر ہجرت کے فیصلے کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ ایف آئی اے سمگلنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے ساتھ کیس مینجمنٹ سسٹم میں ڈیجیٹل اصلاحات پر بھی کام کر رہی ہے۔
یو این او ڈی سی کے کنسلٹنٹ بشارت شہزاد نے سیشن کی قیادت کی۔ انہوں نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے درمیان فرق، پاکستان کے قانونی فریم ورک، ایف آئی اے اور پولیس کے کردار، سروس پرووائیڈرز اور شکایات کے لیے دستیاب ہیلپ لائنز کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ سیشن میں شرکا کے سوالات کے جوابات دیئے گئے جبکہ یو این او ڈی سی کی تیار کردہ اردو دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں جن میں غیر قانونی ہجرت کے حقیقی اثرات اجاگر کیے گئے۔ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گجرات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اجمل صدیق سندھو نے ایف آئی اے کے انسدادی اقدامات پر روشنی ڈالی جبکہ ٹیفٹا کے پلیسمنٹ آفیسر عمر فاروق نے ہنر مندی اور فنی تربیت کے پروگراموں کے ذریعے محفوظ، قانونی اور باقاعدہ ہجرت کے راستے فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔یو این او ڈی سی کی کنسلٹنٹ منور سلطانہ نے انسانی سمگلنگ کے خطرات بڑھانے والے عوامل اور خصوصاً خواجہ سرا افراد کے تجربات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ گروہوں کے لیے تحفظ اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔تقریب میں گجرات کے ایک ایسے فرد نے بھی اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا جو غیر قانونی ہجرت کے بعد ڈی پورٹ ہوا تھا۔ اس نے ہجرت کے خطرناک سفر اور وطن واپسی کے بعد درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔شرکا نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مزید ایسے آگاہی پروگرامز کے انعقاد کی سفارش کی۔ نوجوانوں اور خواجہ سرا شرکا نے اپنے علاقوں میں آگاہی کے سفیر کے طور پر کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔یو این او ڈی سی پاکستان کے مطابق آگاہی، شمولیت اور اجتماعی عمل کے ذریعے یہ کمیونٹی سیشنز مقامی سطح پر مجرمانہ نیٹ ورکس کے حربوں کے خلاف مزاحمت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت غیر قانونی ہجرت کے یو این او ڈی سی ایف آئی اے خواجہ سرا
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔