پاک فوج کا تاریخی کارنامہ، خاتون کے عطیہ کردہ کورنیہ سے دو سپاہیوں کی بینائی بحال
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں قائم آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف اوپتھامولوجی (اے ایف آئی او) کے ماہر سرجنز نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کے عطیہ کردہ کورنیہ کی کامیاب پیوند کاری کرکے دو بہادر سپاہیوں کی بینائی بحال کردی۔
یہ پیوند کاری مرحومہ مسز سید ظفر مہدی عسکری کی وصیت پر کی گئی، جنہوں نے وفات سے قبل اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے عطیہ کردہ کورنیہ 30 سالہ سپاہی علی اللہ اور 26 سالہ سپاہی فلک شیر کی آنکھوں میں کامیابی سے منتقل کیے گئے۔ دونوں سپاہی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران شدید زخمی ہوکر اپنی بصارت کھو بیٹھے تھے۔
اے ایف آئی او کے ماہر سرجنز نے جدید ترین طبی آلات اور انتہائی باریک بینی سے سرجری مکمل کی، جس کے بعد دونوں سپاہیوں کی بینائی بحال ہوگئی۔ طبی ماہرین نے اسے پاکستان میں بصارت کی بحالی کے میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔
میجر جنرل (ر) سید ظفر مہدی عسکری کی مرحوم اہلیہ کے اس نایاب اقدام پر ان کی بیٹی زہرا مہدینے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ والدہ کی آنکھیں دو بہادر فوجیوں کو عطیہ کی گئیں۔ ان کی یہ قربانی ہمارے خاندان کے لیے صدقۂ جاریہ بن گئی ہے۔‘
پاک فوج کے ترجمان نے بھی اے ایف آئی او کے ماہرین کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف طبّی شعبے بلکہ انسانیت، قربانی اور امید کی ایک روشن مثال ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عطیہِ اعضاء سے متعلق عوامی شعور میں اضافہ ہورہا ہے، اور یہ کامیاب آپریشن مستقبل میں بینائی سے محروم افراد کے لیے نئی امید بن سکتا ہے۔
اے ایف آئی او کے مطابق ادارہ اب اس کامیابی کو بنیاد بنا کر آنکھوں کے عطیات سے متعلق قومی مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد بصارت کی نعمت سے دوبارہ لطف اندوز ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اے ایف آئی او
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔