عائشہ عمر کے متنازع شو ’’ لازوال عشق‘‘ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا شو “لازوال عشق” کے خلاف دائر درخواست پر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ احکامات عدالت عالیہ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے چیئرمین امن ترقی پارٹی فائق شاہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ شو میں پیش کیا جانے والا مواد ملکی سماجی اقدار اور اخلاقی روایات کے منافی ہے۔ ان کے مطابق پروگرام کے مناظر اور مکالمے معاشرتی بگاڑ اور فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، جو نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور ان پر فوری پابندی کیلئے احکامات جاری کرنا بےحد ضروری ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پیمرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والے مواد کی سخت نگرانی کو یقینی بنائیں۔
درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے مواد کی نشریات کے لیے واضح اصول وضع کیے جا سکیں۔
عدالت نے وفاقی حکومت، پی ٹی اے، پیمرا، اسلامی نظریاتی کونسل اور نیشنل کمیشن فار کلچر اینڈ آرٹس (NCCIA) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔