چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ ہندوستان میں بیٹھ کر ہمیں دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے۔ ان الفاظ میں انہوں نے واضح کیا کہ ’نہ ہم سوویت یونین ہیں، نہ امریکا یا برطانیہ اور نہ ہی نیٹو، ہم پاکستان ہیں‘۔

مداخلت سے انکار، امن کی شرط

اشرفی نے مزید کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک میں مداخلت یا قبضہ کا متحمل نہیں بنے گا۔ ہمارا واحد تقاضا یہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی اور مداخلت بند ہو۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحدی کشیدگی پر سعودی عرب اور قطر کی تشویش

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ملک میں داخل ہونا نہیں چاہتے، بس اپنی سرحد کی حفاظت چاہتے ہیں۔

فوجی ردِعمل اور انتباہ

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پاک افواج نے جس طرح سرحدی حملوں کا جواب دیا وہ قابلِ موثر تھا اور یہ عمل تو محض آغاز ہے۔

فائل فوٹو

طاہر اشرفی نے افغان طالبان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بیٹھ کر کی گئی کسی بھی سازش یا اشتعال انگیزی کا سامنا کرنا ہوگا اور وہ پاکستان کی کارروائیوں سے سبق سیکھیں۔

عوامی یکجہتی کا اشارہ

طاہر اشرفی نے قومی یکجہتی اور مسلح افواج کے ساتھ عوامی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی حدود اور امن عامہ کے دفاع کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان بھارت پاکستان طاہر اشرفی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارت پاکستان طاہر اشرفی طاہر اشرفی اشرفی نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی