Jasarat News:
2026-07-24@03:39:12 GMT

خوئے بد را بہانہ ہائے بسیار!

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے 13 اکتوبر کو مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہ کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جس امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کیے تھے، وہ مشرقِ وسطیٰ کے حبس زدہ جنگی ماحول میں خوشگوار ہوا کو جھونکا محسوس ہورہا تھا، مگر معاہدے کی شقوں میں موجود ابہام اور حل طلب کئی پیچیدہ مسائل کی موجودگی میں خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ یہ امن معاہدہ تادیر قائم نہیں رہ سکے گا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ خدشات محض خدشات نہیں تھے، اس امر کے ٹھوس شواہد موجود تھے کہ اسرائیل کسی طور اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، خود اس کی پوری تاریخ اس حقیقت پر دال ہے کہ اس نے کبھی بھی معاہدہ پر عمل نہیں کیا، یہی خدشہ خود حماس کو بھی تھا اسی لیے اس نے علاقائی اور بین الاقوامی ضمانت طلب کی تھی۔ امن معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے بعد پیش آمدہ حالات و واقعات، اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور امریکی صدر کا لب ولہجہ اب ان خدشات کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔ امن معاہدے میں یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل جسے حماس کو بروئے کار لانا تھا وہ تو بحسن و خوبی انجام پا گیا مگر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے نہیں رک سکے، معاہدے کے دوسرے ہی دن اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے 9 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق معاہدے کے دو دنوں کے اندر جنگ بندی کے باوجود 23 فلسطینی شہید کیے گئے، 16 اکتوبرکو 3 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، مجموعی طور پر جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 40 فلسطینی شہید کیے جاچکے ہیں۔ اس صورتحال کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حماس نے بجا طور پر عالمی ضامنوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو تمام شرائط کا پابند بنائیں اور کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی کو روکنے کے لیے عملی کردار ادا کریں، حماس کا کہنا ہے کہ محض معاہدہ کافی نہیں بلکہ اس پر حقیقی اور مکمل عملدرآمد ہی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا نوٹس لینے کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو غزہ میں گھس کر حماس کا خاتمہ کریں، اس سے قبل امریکی صدر دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر حماس جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دے دیں گے۔ سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس نے اب تک 28 سے زیادہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے حماس کو معاہدے کی پاسداری کا پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جیسے ہی میں کہوں گا، اسرائیلی فوج دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوگی اور اگر اسرائیل چاہے تو حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر غیرمسلح ہوجائے، انہوں نے زور دیا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بلاتاخیر غیر مسلح ہو جائے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی کھلی دھمکی دی ہے کہ غزہ میں جنگ ایک بار پھر شروع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں اور تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ کیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس اب بھی 19 اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کو روکے ہوئے ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دھمکی آمیز یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا تھا اور اس جنگ بندی کے معاہدے کو ابھی چار دن بھی نہیں گزرے تھے۔ امریکی صدر اور اسرائیلی رہنماء کا سارا زور ان یرغمالیوں کی لاشوں کی بازیابی پر ہے جو خود اسرائیلی بمباری کی وجہ سے سرنگوں میں دب کر مر گئے، جس پر حماس کا کہنا ہے کہ کچھ لاشیں تباہ شدہ سرنگوں میں دفن ہیں جبکہ متعدد لاشیں اب بھی ملنے تلے دبی ہوئی ہیں، یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں وقت لگ سکتا ہے، حماس کا کہنا ہے کہ غزہ امن معاہدے کے تحت جو وعدے کیے اس پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہیں، ان اسرائیلی مغویوں کی لاشیں حوالے کی ہیں جنہیں تلاش کر سکتے تھے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ مگر امریکی صدر، امریکی سینٹرل کمانڈ، اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع سب دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کو جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہلاک ہونے والے مغویوں کی لاشیں واپس کرنا ہوں گی۔ مذکورہ صورتحال سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل محض یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہوئے کیونکہ گزشتہ دو سال میں جان توڑ کوششوں اور بے پناہ عسکری قوت استعمال کرنے کے باوجود وہ کسی ایک بھی زندہ یا مردہ یرغمالی کو رہا نہیں کراسکے، حالانکہ اس پورے عرصے میں امریکی، اسرائیلی، فرنسیسی، جرمنی اور برطانوی جاسوس طیارے پورے غزہ کی فضاؤں میں گشت کرتے رہے، اب جب کہ زندہ تمام یرغمالی رہا ہوچکے ہیں تو سب نے اپنا لب ولہجہ بدل لیا ہے اور ایک بار پر دھمکیوں کا سہارا لیا جارہا ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں غزہ میں گھس کر حماس کا خاتمہ کریں گے، سوال یہ ہے کہ دو سال تک وہ غزہ میں کیا کرتے رہے ہیں؟ پورے غزہ کو تاراج کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے باجود نہ یرغمالی رہاکرائے جاسکے اور نہ ہی حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکا۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور اگر ایسا نہیں ہوا تھا بقول صدر ٹرمپ کے: جیسے ہی میں کہوں گا، اسرائیلی فوج دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوگی اور اگر اسرائیل چاہے تو حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔ حماس نے اپنے عزم، ہمت، استقامت،جرأت اور بالغ نظری سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ طاقت کے زور پر انہیں زیر نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ وہ دھمکیوں میں آنے والے نہیں، حماس نے واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی نگرانی میں غیر مسلح ہونے کے کسی نکتے پر غور نہیں کیا جائے گا، نہ ہی غزہ کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے کو قبول کیا جاسکتا ہے، غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل عبوری انتظامیہ کے سپرد ہونا چاہیے، وہ اپنے وعدوں پر قائم ہیں، لیکن اپنی قوم کی آزادی، خودمختاری اور حق ِ خودارادیت سے کسی طور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں گوکہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا ہے مگراس پر خدشات کے بادل ہنوز منڈلا رہے ہیں، یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی، امریکا اور اس معاہدے کے ثالثوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ معاہدے کی عدم پاسداری پر اسرائیل سے جوابدہی کا میکانزم بنائے بغیر خطے میں طویل المدتی قیامِ امن کو خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یرغمالیوں کی بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ کی خلاف ورزی جنگ بندی کے امن معاہدے امریکی صدر معاہدے کی معاہدے کے کی لاشیں کہ حماس سکتا ہے حماس کا حماس کو رہے ہیں اور اس غزہ کی ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل