سٹی 42: قطر میں پاک افغان سیز فائر مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی عوام نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغانیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ اب گڑ والا قہوہ پلائیں گے 

 عوام نے دو ٹوک موقف  اپناتے ہوئے کہا کہ افغانیوں نے پہلے بلا اشتعال جارحیت کی جب پاک فوج نے کارروائی کرنے کی کوشش کی تو یہ مذاکرات کے پیچھے چھپ گئے۔

 شہریوں نے کہا کہ اگر افغانستان نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو پاکستانی فوج، عوام اور مسلح افواج منہ توڑ جواب دیں گے،پہلے بھارت کو جواب دیا گیا ہے، اب اگر بھارت افغانستان کے ذریعے کچھ کرنا چاہے گا تو اسے بھی اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ شہریوں نے کہا کہ بھارت کو ہم نے چائے پلائی تھی، اب افغانیوں کو گڑ والا قہوہ پلائیں گے،ہم نے ہمیشہ افغانیوں کے ساتھ بھائیوں والا سلوک رکھا، مگر اگر جنگ مسلط کی گئی تو افواجِ پاکستان بھرپور جواب دیں گی۔

وفاقی حکومت نے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دیدی

 عوام نے موقف اپنایا کہ افغانستان نے بڑی غلطی کی ہے ، اگر آئندہ اسی طرح کچھ کیا گیا تو انہیں سخت جواب ملے گا،پاکستانی عوام اور فوج ایک صفحے پر ہیں،جب افغانستان کو پاکستان کی قوت  کا اندازہ ہو گیا تو مدد و مفاہت کے لیے ہاتھ پھیلانے لگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار

الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔

مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟