الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو بلدیاتی حلقہ بندیوں، ڈی مارکیشن رولز کیلئے 4 ہفتے دیدے
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب حکومت کو بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں اور ڈی مارکیشن رولز کے لیے 4 ہفتے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ای سی پی کا پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی 2025ء کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔
اعلامیے کے مطابق ای سی پی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں سابق قانون کے تحت دیا گیا حلقہ بندیوں کا شیڈول واپس لینے اور پنجاب حکومت کو حلقہ بندی اور ڈی مارکیشن رولز کےلیے 4 ہفتے دینے کے فیصلے کیے گئے۔
ای سی پی اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ اس مدت میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا، پنجاب حکومت نے 4 ہفتے میں کام مکمل نہ کیا تو معاملہ سماعت کے لیے مقرر ہوگا۔
اسپیشل سیکریٹری نے کہا کہ نئے قانون کے بعد سابق قانون پر حلقہ بندیاں الیکشن ایکٹ سیکشن219کے منافی ہوگی، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعد گورنر نے توثیق کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔