مستونگ میں 9 مزدور اغوا، مسلح افراد نامعلوم مقام پر لے گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں سیاہ پُشت کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے نو مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
لیویز ذرائع کے مطابق مزدور علاقے میں چوکیوں کی تعمیر کا کام کر رہے تھے جب مسلح افراد نے اچانک حملہ کر کے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:مستونگ سے لاپتا ڈی ایس پی نوشکی، یوسف ریکی کی لاش برآمد
ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والوں میں 4 مقامی اور 5 سندھی مزدور شامل ہیں۔ اغوا کاروں نے ایک مقامی مزدور کو بعد ازاں چھوڑ دیا، جب کہ باقی 8 مزدوروں کو نامعلوم مقام کی جانب لے جایا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا کیونکہ ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام نے ابھی تک باضابطہ طور پر درخواست نہیں دی۔
یاد رہے کہ آج ہی مستونگ میں اغوا کے بعد لاپتا ہونے والے ڈی ایس پی نوشکی پولیس یوسف ریکی کی لاش برآمد کرلی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول افسر کی لاش کردگاپ کے علاقے گرگینہ کلی شربت خان سے ملی۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی یوسف ریکی ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کردگاپ سے لاپتا ہوگئے تھے۔ وہ نوشکی سے کوئٹہ جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا۔
مزید پڑھیں: اغوا ہونے والے این سی سی آئی اے افسر کی بیگم بھی لاپتا ہونے کا انکشاف، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نوٹس
آج صبح پولیس کو اطلاع ملی کہ کردگاپ کے نواحی علاقے سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت بعد ازاں ڈی ایس پی یوسف ریکی کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق مقتول نوشکی پولیس تھانے میں ڈی ایس پی کے طور پر تعینات تھے۔ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ نامعلوم ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا مزدور اغوا مستونگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا مزدور اغوا مستونگ ذرائع کے مطابق یوسف ریکی ڈی ایس پی
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین