گزشتہ سال حج کرنے والوں کو ساڑھے تین ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
گزشتہ سال حج کرنے والوں کو ساڑھے تین ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزارت مذہبی امور نے گذشتہ سال فریضہ حج ادا کرنے والے 66 ہزار 377 حاجیوں کو 3 ارب 45 کروڑ 65 لاکھ 85 ہزار روپے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رقوم کی منتقلی کا عمل حاجیوں کے بینک اکائونٹس میں 31اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا، حج 2026 کیلئے 40 دن کے حج پیکیج کی رقم 11 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 25 دن کے شارٹ حج کا پیکیج 12 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے وزارت مذہبی امور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور اور حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ حج اخراجات کو ممکنہ حد تک کم سے کم رکھا جائے اور حج انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال عازمین حج کو سعودی عرب میں قدم قدم پر رہنمائی فراہم کرنے کیلئے حج ناظم کی اسکیم منظور کی گئی، حاجیوں کے گروپ پر ایک ناظم مقرر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حج 2025 کے دوران رہائشی عمارتوں، کھانے پینے، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر معاملات میں تقریبا ساڑھے تین ارب روپے کی بچت کی گئی جو رقم حاجیوں کو واپس کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال فریضہ حج ادا کرنے والے 12 ہزار 286 حاجیوں کو 12 ہزار فی کس، 13 ہزار 939 حاجیوں کو 25 ہزار، 8 ہزار 496 حاجیوں کو 48 ہزار، 20 ہزار 302 حاجیوں کو 75 ہزار، 10 ہزار 945 حاجیوں کو 90 ہزار اور 400 حاجیوں کو ایک لاکھ 10 ہزار فی کس کے حساب سے رقم واپس کی جا رہی ہے، یہ واپسی آج سے ہی شروع ہو جائے گی اور 31 اکتوبر تک رقوم کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جن حاجیوں کو رقم واپس نہیں کی گئی انہوں نے حجاز مقدس میں فراہم کی گئی تمام سہولیات سے مکمل استفادہ کر لیا تھا، جن لوگوں کو رقم واپس کی گئی ہے یہ لوگ رہائشی عمارتوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات سے مکمل استفادہ نہیں کر سکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حج 2026 کے موقع پر بھی حاجیوں کو سفری بیگ اور سعودی کمپنی کی موبائل فون سم دی جائے گی جس میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ 300 سے 600 تک فون کالز کی سہولت بھی میسر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حج تربیت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ حج 2026 کیلئے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 دن کے حج کا پیکیج 11 لاکھ 50 ہزار اور 25 دن کے حج کا پیکیج 12 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، اس طرح سرکاری سکیم کے تمام درخواست گزاروں کو ساڑھے 6 لاکھ روپے کی دوسری قسط جمع کرانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سعودی تعلیمات کے مطابق حج انتظامات کئے ہیں، پرائیویٹ اسکیم کے تحت بھی حج کوٹہ پر تقریبا بکنگ مکمل ہو گئی ہے، وزارت مذہبی امور کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حج کی سعادت نصیب ہو۔ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ گذشتہ سال حج کے موقع پر منی اور عرفات میں چائے تک فراہم کی گئی، تمام حاجیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر تھی، جو شکایات سامنے آتی ہیں ان پر کارروائی کرکے ان کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی سہولت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاہم کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا اور شدید بیمار شخص کو حج پر نہیں جانا چاہئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ٹرمپ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ٹرمپ خواہش ہے بلڈ بنک کی طرح آئی بینک بھی قائم کیا جائے ، معروف ڈاکٹر راشد حسین نت عدالتی بینچ خواہشات کے مطابق نہیں ،آئین و قانون کے مطابق بنیں گے، سپریم کورٹ مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کا فیصلہ مسترد، عالمی برادری اقدامات کرے، پاکستان پاک چین عدالتی تعاون کیلئے سپریم کورٹس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط وزیراعلی کے پی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی، علامتی دھرنے کے بعد واپس روانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کرنے کا فیصلہ گذشتہ سال حاجیوں کو کی گئی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔