Express News:
2026-07-24@15:28:03 GMT

گھر گھر میں گھائل ہی گھائل

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

جو جاوے کوچے سے ترے آوے ہے گھائل

تلوار کھیچے ہے نہ کوئی تیر چلے ہے

کچھ ایسی ہی صورت حال آج کل ہمارے اس وطن عزیز کی ہے۔جس کے حصول کے لیے قربانیاں دی گئی تھیں ہزاروں جان کی، اس امید کے ساتھ کہ وہاں ہم دشمنوں سے دور،اپنے ہی اپنے ہوں گے کوئی غم خزن کوئی ملال نہیں ہوگا وہی ہماری فردوس گم گشتہ ہوگی اور ہم ہوں گے

بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشد

کسے را باکسے کارے نہ باشد

لیکن آج وہاں ایک گھمسان کی جنگ برپا ہے ہم اگر ہر طرف دیکھیں تو سارے کے سارے لہولہان ہیں۔اور وہی بات کہ تلوار کھچے ہے نہ کوئی تیر چلے ہے۔مطلب ہم اس لڑائی اور خونریزیوں کی بات نہیں کررہے ہیں جو ظاہری ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے وہ تو الگ سے چل رہی ہے اور چلتی رہے گی، جب تک دنیا میں عیار ومکار یہودی سوداگر اور سیدھے سادے مسلمان موجود ہیں۔ہم ایک اور جنگ کی بات کررہے ہیں جس میں کوئی ظاہری ہتھیار نہیں چل رہا ہے لیکن پھر بھی ہرطرف دیکھیے تو ہر کوئی لہولہان دکھائی دے اور گھائل نظر آئے گا یا مقتول۔یہ جنگ مغلوبہ ہر ہر شہر،ہر ہر گلی کوچے اور ہر ہر گھر میں بپا ہے۔

یہ لیڈر رہنما اور رہبر عوام کو قتل کررہے ہیں سرکاری محکمے پبلک کو گھائل کررہے ہیں سرکاری محکمے اور ادارے محکوموں کو چاقو چھریاں بھونک رہے ہیں پھر سیاسی لوگ اور پارٹیاں حکومت کے درپے ہے اور حکومت سیاست کے۔ دکاندار تاجر اور صنعت کار عوام کا قتل عام کررہے ہیں، مسیحا مریضوں کے کشتے کے پشتے لگا رہے ہیں، ٹرانسپورٹر عوام کو خونا خون کررہے ہیں، سرکاری لٹیرے ٹرانسپورٹوں کا خون چوس رہے ہیں بلکہ کچھ ایسے بھی ادارے اور عناصر ہیں جو خود کو خود ہی ٹھکانے لگارہے ہیں جیسے واپڈا،ریلوے وغیرہ۔قانون نافذ کرنے قانون کی ایسی کی تیسی کررہے ہیں محافظ ڈاکو بن چکے ہیں، چوکیدار خود چوری کررہے ہیں بلکہ قانون آئین اور انصاف خود ہی خود کے ہاتھوں لہولہان ہیں۔ہمیں تو کہیں بھی کوئی ایسا گوشہ دکھائی نہیں دے رہا ہے جہاں کوئی سلامت ہو ہاں اونچے بہت اونچے ’’ایریا‘‘ میں ہو تو ہو۔ اوراونچی دیواروں کے بیچ۔جن کی رگوں میں سابق’’رنگ‘‘ کا لہو بہہ رہا ہے سفید۔۔۔۔اور قدموں میں ان آقاؤں کا سبز رنگ۔

خط سبزے بخط سبز مرا کرد اسیر

دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار شد

ہمیں تو اس پورے ملک میں ایسی کوئی جگہ نظر نہیں آتی جہاں یہ جنگ جاری نہ ہو ہم نے ابتدا میں جو شعر عرض کیا ہے وہی حالت ہے کوئی تیر چلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا کوئی تلوار چلتی ہوئی نظر نہیں آتی ہے کوئی خنجر نیزہ کوئی چھری کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن جسے دیکھو گھائل اور لہولہان دکھائی دیتا ہے ہر طرف خون ہی خون بہہ رہا ہے کوئی دامن داغدار نہیں ،کوئی آستین سرخ نہیں لیکن لوگ گھائل ہیں زخمی ہیں، درد سے چیخ چلا رہے ہیں ،مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔لیکن سنے کون جو کہ سننے والے خود بھی اس جنگ مغلوبہ میں شامل ہیں،جو دانا دانشوروں نے ریاست کے چار ستون بتائے ہیں ان کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ستون روز بروز زمین میں دھنسے جارہے ہیں

چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا مانند مسلمانی

اور ستونوں کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں کہیں گے کہ عیاں راچہ بیان۔لیکن جس ستون سے ہمارا تھوڑا بہت تعلق بنتا ہے۔پہلے زمانے میں اسے صحافت کہتے تھے اور یہ ایک فن یا مشن تھا۔لیکن آج اسے میڈیا کہتے ہیں اور انڈسٹری بن گئی ہے ۔اگلے زمانوں میں یہ ’’بذریعہ قلم‘‘ کی جاتی تھی اور ضمیر کی روشنی میں کی جاتی تھی لیکن آج یہ کیمرے اور مائک سے کی جاتی ہے اور مفادات کے باٹوں سے تولی جاتی ہے۔

پورا ستون ہی دیمک کھاچکا ہے صرف اوپر خول باقی ہے۔کچھ دانا دانشور کبھی کبھی چینلوں پر اخباری بیانات اور دانش سے بھر پور کالموں میں خوشی خوشی بتاتے ہیں کہ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے،سڑکوں پر گاڑیوں کی آبشاریں بہہ رہی ہیں جگہ جگہ فوڈ اسٹریٹ چل رہی ہیں شاپنگ مالوں میں قدم جمانے کی جگہ نہیں ملتی ہر جگہ بہار ہی بہار اور گلزار ہی گلزار ہے اورا س کا مطلب ہے کہ ہمارا معاشرہ خوشحال ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں شہروں میں جو خوشحالی نظر آرہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ 77سالوں میں جو بھی حکومتیں برپا ہوئی ہیں ان سب نے سینٹریلائزیشن اور مضبوط مرکز کا جو ’’عفریت‘‘ پالا ہے اس کے دو جبڑے ہیں ایک اوپر کا جو پندرہ فیصد سیاسیوں، راشیوں اور استحصالیوں پر مبنی ہے۔

وہ چلتا ہے نیچے کے جبڑے میں پھنسے ہوئے بدنصیبوں کو پیستا ہے اور اس کا خون پیتا ہے اور روز بروز موٹا ہوتا جاتا ہے۔یہ لیڈر دانا دانشور اور حکام نہیں جانتے بالکل نہیں جانتے یا جان بوجھ کر انجان بنے ہوئے ہیں کہ شہروں کی چمک دمک جب نچلے طبقات والے دیکھتے ہیں تو ان سہولتوں اور ’’عیاشیوں‘‘ کو حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں اور کیا کیا کچھ ’’بیچتے‘‘ ہیں۔ان کو یہ تو یقینا پتہ ہوگا کہ دیہاتی قصبائی اور غریب لوگ ’’کیا کیا‘‘ بیچ رہے ہیں پندرہ فیصد اشراف کی ہمسری کرنے کے لیے۔ عزت، غیرت، عصمت سب کچھ۔کیونکہ این جی اوز اور بعض پرائیوٹ اسکولز وکالجوں کی شکل میں ’’سہولت کار‘‘ بھی موجود ہیں کیا کریں گے ترقی یافتہ جو بننا ہے۔کچھ’’پانے‘‘ کے لیے کھونا تو پڑتا ہے،کسی کو یقین نہ ہو تو سب کچھ سامنے ہے۔آدھی ادھوری تعلیم یافتہ لڑکیاں بھی آزادی نسواں کی بانسریاں سن کر اسی راہ پر چل نکلی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کررہے ہیں رہے ہیں کے لیے ہے اور ہیں کہ

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ