کی بورڈ کے وہ حیرت انگیز راز جو زیادہ تر لوگ نہیں جانتے
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کی بورڈ ایک ایسی چیز ہے جو تقریباً ہر شخص روزانہ استعمال کرتا ہے، چاہے دفتر میں کمپیوٹر پر کام کے لیے ہو یا گھر میں لیپ ٹاپ پر ویڈیوز دیکھنے کے لیے۔ بظاہر عام سا لگنے والا یہ آلہ دراصل کئی دلچسپ رازوں سے بھرا ہوا ہے جن کے بارے میں زیادہ تر افراد نہیں جانتے۔
اگر آپ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ساتھ کی بورڈ استعمال کرتے ہیں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس کے نیچے دائیں اور بائیں جانب دو چھوٹے “پیر” یا “فِیٹ” ہوتے ہیں۔
یہ عام طور پر ٹائپنگ کے زاویے کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کی بورڈ کو دیکھ کر ٹائپ کرتا ہے تو یہ فٹ مددگار ثابت ہوتے ہیں، لیکن اگر کوئی بغیر دیکھے ٹائپ کرتا ہے تو ان فِیٹس کا استعمال کلائی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے کیونکہ اس سے ہاتھوں کا زاویہ غیر فطری ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اگر آپ غور کریں تو کی بورڈ پر “F” اور “J” کیز پر چھوٹی لکیریں بنی ہوتی ہیں۔ ان لکیروں کو “ہومنگ بارز” کہا جاتا ہے اور ان کا مقصد ٹائپنگ کے دوران انگلیوں کی درست پوزیشن بتانا ہوتا ہے۔ جب دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں ان بٹنوں پر رکھی جائیں تو باقی انگلیاں خود بخود اپنی جگہ تلاش کر لیتی ہیں، یوں صارف بغیر کی بورڈ کو دیکھے درست انداز میں ٹائپ کر سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ “شفٹ” کی کا استعمال سب سے پہلے پرانے ٹائپ رائٹرز میں متعارف ہوا تھا۔ 1878 میں “ریمنگٹن نمبر 2” ٹائپ رائٹر میں شامل کی گئی یہ کی اس وقت لیٹر کیز کو نیچے کی طرف منتقل کر دیتی تھی، جس سے بڑے حروف (Capital Letters) اور علامات (Symbols) ٹائپ کرنا ممکن ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا نام “شفٹ” رکھا گیا — کیونکہ یہ کیز کی پوزیشن کو “شفٹ” کرتی تھی۔
یوں یہ عام سا لگنے والا کی بورڈ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی ایک اہم ایجاد ہے بلکہ اس کے ہر حصے کے پیچھے دلچسپ منطق اور تاریخ چھپی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
ابو ظبی: متحدہ عرب امارات نے استعمال شدہ کپڑوں اور ٹیکسٹائل کے بڑھتے ہوئے فضلے کو کم کرنے کیلئے ’نسیج‘ کے نام سے قومی منصوبہ شروع کر دیا۔حکام کے مطابق عرب امارات میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 20ہزار ٹن ٹیکسٹائل فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس فضلے کو کم کرنے کیلئے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر ’نسیج‘ کے نام سے قومی منصوبہ شروع کردیا گیا ہے۔نسیج منصوبے کے تحت پرانے کپڑوں کو دوبارہ استعمال، ری سائیکل اور قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل کیا جائے گا۔