غزہ:

وہ جنگ بندی جو دنیا نے کاغذوں پر دیکھی تھی، زمین پر کبھی نافذ ہی نہ ہو سکی۔ گزشتہ روز اسرائیلی ڈرونز نے ایک بار پھر غزہ پر موت برسائی، جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

شہید ہونے والوں میں 70 سالہ خاتون ام حاتم النجار اور ان کا 25 سالہ بیٹا حاتم النجار بھی شامل ہیں جو اپنے گھر کے قریب کھڑے تھے جب مشین گن سے فائر کھل گیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 11 اکتوبر کو ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 367 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ہر گزرتا دن جنگ بندی کے نامی کاغذ کو مزید بے معنی بناتا جا رہا ہے۔

قطر اور مصر نے مشترکہ بیان میں سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اب نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر فوری طور پر غزہ اسٹیبلائزیشن فورس تعینات نہ کی گئی تو پورا معاہدہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔

دریں اثناء مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی دیہاتوں پر حملوں میں تیزی کر دی ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں صرف نابلس اور الخلیل کے علاقوں میں 11 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان