صیہونی افواج نے جنگ بندی کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، مزید 7 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
غزہ:
وہ جنگ بندی جو دنیا نے کاغذوں پر دیکھی تھی، زمین پر کبھی نافذ ہی نہ ہو سکی۔ گزشتہ روز اسرائیلی ڈرونز نے ایک بار پھر غزہ پر موت برسائی، جس کے نتیجے میں 7 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
شہید ہونے والوں میں 70 سالہ خاتون ام حاتم النجار اور ان کا 25 سالہ بیٹا حاتم النجار بھی شامل ہیں جو اپنے گھر کے قریب کھڑے تھے جب مشین گن سے فائر کھل گیا۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 11 اکتوبر کو ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 367 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ہر گزرتا دن جنگ بندی کے نامی کاغذ کو مزید بے معنی بناتا جا رہا ہے۔
قطر اور مصر نے مشترکہ بیان میں سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اب نازک ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر فوری طور پر غزہ اسٹیبلائزیشن فورس تعینات نہ کی گئی تو پورا معاہدہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔
دریں اثناء مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی دیہاتوں پر حملوں میں تیزی کر دی ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں صرف نابلس اور الخلیل کے علاقوں میں 11 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔