بھارت کا تجارتی فیصلوں پر دباؤ قبول نہ کرنے کا اعلان، وزیر تجارت پیوش گوئل امریکا جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے جمعہ کے روز کہا کہ بھارت اپنے تجارتی اختیارات پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی تجارتی معاہدے پر جلد بازی میں دستخط کرے گا۔
برلن گلوبل ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت نےواضح کیا کہ بھارت کسی بھی تجارتی معاہدے پر جلد بازی میں دستخط نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، روسی تیل کی درآمدات پر ’سنجیدگی‘ دکھانے کا مطالبہ
ان کا اشارہ یورپی یونین اور امریکا کی ان تشویشات کی طرف تھا جو بھارت کی روسی تیل کی مسلسل خریداری سے متعلق ہیں۔
⚡️India is close to finalizing a trade deal with the U.
Commerce Minister Piyush Goyal stressed New Delhi won’t rush: “We don’t do deals in a hurry, and we don’t do deals with deadlines, with a gun… pic.twitter.com/fsZOUf4fMe
— Intel Net (@IntelNet0) October 24, 2025
بھارتی وزیر تجارت نے یہ اس وقت کہا ہے جب بھارت کا امریکا کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔
یورپی یونین کے ساتھ جاری آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت کے علاوہ، بھارت امریکا کے ساتھ بھی مذاکرات کر رہا ہے، جس نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: روسی تیل خریدا تو بھارت، چین، برازیل کی معیشت تباہ کر دیں گے، امریکا کی وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بنیادی طور پر تجارت پر گفتگو کی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری محدود کرے گا۔
پیوش گوئل نے کہا کہ نئی دہلی اس حوالے سے محتاط اور تدریجی طریقہ اپنائے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کے مسودے کی زبان کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں۔
مزید پڑھیں: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
ذرائع کے مطابق پیوش گوئل جلد امریکا کا دورہ کریں گے تاکہ تجارتی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
نئی دہلی نے امریکا کے اس مطالبے کی مزاحمت کی ہے کہ بھارتی منڈیوں کو امریکی اناج اور ڈیری مصنوعات کے لیے کھولا جائے، اس مؤقف کے ساتھ کہ چھوٹے کسانوں کے روزگار کا تحفظ ضروری ہے۔
تاہم تجارتی و صنعتی ذرائع کے مطابق بھارت کچھ حد تک مکئی اور سویا میل کی درآمد کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ٹیرف جنگ کے باوجود بھارت اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری
امریکا کی جانب سے بدھ کو روس کے بڑے تیل پیدا کرنے والے اداروں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد، سستے روسی تیل کی بڑی خریدار بھارتی ریفائنریوں نے کہا ہے کہ وہ تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لانے کے لیے تیار ہیں، جو امریکا-بھارت تجارتی معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کر سکتا ہے۔
تجارتی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں امریکا کو بھارتی برآمدات 6.87 ارب ڈالر سے گھٹ کر 5.43 ارب ڈالر رہ گئیں، جس کی وجہ ٹیرف کے باعث ٹیکسٹائل، جھینگا، اور زیورات جیسی اشیا کی برآمد میں کمی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز کا روسی تیل کی درآمدات میں کمی کا فیصلہ
یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا نئی دہلی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ روسی خام تیل کی رعایتی درآمدات میں کمی کرے، کیونکہ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اس سے ماسکو کی یوکرین میں جنگی مہم کو مالی مدد ملتی ہے۔
بھارت طویل عرصے سے اپنے توانائی کے سودوں کا دفاع کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ یہ اس کے توانائی کے تحفظ اور سستی فراہمی کے لیے ضروری ہیں، تاہم اب بھارتی ریفائنریاں امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا برطانیہ بھارتی وزیر اعظم ٹیرف ٹیکسٹائل جھینگا خام تیل رعایتی درآمدات زیورات ماسکو نریندر مودی یورپی یونین یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا برطانیہ بھارتی وزیر اعظم ٹیرف ٹیکسٹائل جھینگا خام تیل رعایتی درآمدات زیورات ماسکو یورپی یونین یوکرین بھارتی وزیر اعظم تیل کی درآمدات تجارتی معاہدے یورپی یونین درآمدات میں روسی تیل کی مزید پڑھیں اور امریکا امریکا کی امریکا کے کے مطابق کہ بھارت کے ساتھ کے لیے کرے گا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔