21 سال قبل گم ہونے والی عشرت بالآخر اپنے گھر واپس پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
لاہور:
حافظ آباد میں اکیس سال قبل گم ہوجانے والی ننھی عشرت بالآخر اپنے گھر والوں کو واپس مل گئی۔
سیف سٹی اتھارٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے ایک اور ناقابلِ یقین کامیابی حاصل کرلی، 21 سال سے گمشدہ عشرت کو بالآخر اس کے اہلِ خانہ سے ملادیا گیا۔
2005 میں حافظ آباد سے لاپتہ ہونے والی ننھی عشرت 2025 میں اپنے گھر واپس لوٹ آئی۔ سیف سٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے عشرت کا انٹرویو ایدھی ہوم لاہور میں ریکارڈ کیا اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا۔
یہ ویڈیو دیکھ کر ایک محلہ دار نے عشرت کو پہچان لیا اور اس کی اطلاع اس کے بھائی کو دی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھتے ہی اپنی بہن کو فوراً شناخت کرلیا۔
’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے تمام تصدیقی مراحل مکمل کرنے کے بعد عشرت کو اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا، جس کے بعد گھر میں خوشیوں کی فضا قائم ہوگئی۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم اب تک 40 ہزار سے زائد گمشدہ افراد کو ان کے اہلِ خانہ سے ملا چکی ہے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کسی گمشدہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو 15 پر کال کر کے 3 دبائیں تاکہ متعلقہ ٹیم فوری رابطہ کر سکے۔
یہ ایک اور ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج جب ساتھ چلے تو گمشدہ امیدیں بھی گھر لوٹ آتی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان میرا پیارا
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔