پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا عالمی اعتراف، امریکی جریدے نے ’خطے کا فاتح‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا عالمی اعتراف، امریکی جریدے نے ’خطے کا فاتح‘ قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
امریکا کے معتبر جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کی حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامہ بدل کر سفارتکاری میں نئے افق کھول دیے ہیں۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کی سفارتکاری نے خطے میں نئی جہتیں متعارف کراتے ہوئے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکا سے تعلقات کی بحالی، ترکی، ملائیشیا اور ایران کے ساتھ معاہدوں اور چین سے تعلقات کے فروغ نے بین الاقوامی تعلقات میں نیا باب رقم کیا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نئی سفارتی لہر پیدا کی ہے جو پاکستان کی کامیابی کا واضح مظہر ہے۔
اسلام آباد اور واشنگٹن کے نئے تعلقات کی شروعات کچھ پیش آنے والے غیر متوقع واقعات سے ہوئی، جن میں پاکستان کا داعش خراسان کے ایک اہم دہشتگرد کو گرفتار کرنا شامل تھا، جو کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی تعاون کو ’’غیر معمولی اور مؤثر‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہے، جبکہ بھارت کو سابق صدر ٹرمپ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے 25 سالہ سفارتی محنت اور اعتماد کے ضیاع کا خدشہ لاحق ہے۔
ٹرمپ اور مودی کی تلخ فون کال کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں، جس نے پاکستان کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔
جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی دو گھنٹے طویل ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ٹرمپ کی ملاقاتیں اور غزہ امن کانفرنس میں شرکت پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مظہر بنیں۔
پاکستان نے ٹرمپ دور میں شاندار تجارتی پیکیج حاصل کرکے سفارتکاری میں نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر سفارتکاری کے باعث ایک امریکی کمپنی نے 500 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہوتے ہوئے بھی امریکا، چین اور سعودی عرب سے بیک وقت تعلقات مضبوط کرنے کی قابل رشک صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس متوازن خارجہ پالیسی اور موثر سفارتکاری نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرانزٹ کھیپوں کی تقریبا 495گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر ہیں، ایف بی آر ٹرانزٹ کھیپوں کی تقریبا 495گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر ہیں، ایف بی آر ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل چوتھے ہفتے بھی بلند ، ہفتہ وار مہنگائی میں صفر اعشاریہ22فیصد اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ، مغوی ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کی بازیابی کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت پاکستان نے مہاجرین کو سینے سے لگایا، ہندوستان ہرا نہیں سکتا، وزیراعظم آزاد کشمیر وزیراعظم نے اسلام آباد میں شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا وفاق نے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی، مسائل پیدا کرنا نہیں چاہتے، شازیہ مریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔