شمالی وزیرستان، فورسز کی خوارج کے ٹھکانے پر کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قابل اعتماد خفیہ معلومات کی بنیاد پر اطلاع ملی تھی کہ بھارت کے حمایت یافتہ خوارج گروہ “فتنہ الخوارج” شمالی وزیرستان کے علاقے جھلار میں ایک گاڑی کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر شمالی وزیرستان میں بھارت کے حمایت یافتہ خوارج کے ٹھکانوں پر مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ تباہ کن حملہ روک دیا اور 3 خوارج ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورتی فورسز نے 24 اکتوبر 2025 کو دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی ناکام بنا دی اور ایک ممکنہ تباہ کن حملہ روک لیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قابل اعتماد خفیہ معلومات کی بنیاد پر اطلاع ملی تھی کہ بھارت کے حمایت یافتہ خوارج گروہ “فتنہ الخوارج” شمالی وزیرستان کے علاقے جھلار میں ایک گاڑی کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائی کرتے ہوئے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انتہائی مہارت سے کی گئی کارروائی کے نتیجے میں وہ گاڑی تباہ کر دی گئی جو خودکش حملے کے لیے تیار کی جا رہی تھی، جبکہ تین بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج بھی مارے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شمالی وزیرستان آئی ایس پی آر یافتہ خوارج
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔