قانون کی آخری حد: پی ٹی آئی کے خلاف سخت پارلیمانی کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی غیرسیاسی اور جارحانہ حکمت عملی روکنے کیلئے بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔کسی رکن نے ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کی ، ڈائس کا گھیراؤ کیا گالم گلوچ کی یا بانی پی ٹی آئی کی تصاویر ایوان پر لائے تو رکنیت معطل ہوگی۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ایوان میں دی گئی رولنگ پر عملدرآمد یقینی بنانےکیلئے پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو خط لکھیں گے جس میں سیدال خان پی ٹی آئی کو ایوان میں دی گئی رولنگ پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دیں گے ۔پی ٹی آئی کو غیرجمہوری اور غیر قانونی طرز عمل پر ممکنہ کارروائی کے حوالے سے خبردار کیا جائے گا ، پی ٹی آئی کو ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ بننے سے اجتناب کی بھی ہدایت کی جائے گی ۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ریاست اور اداروں کے خلاف پی ٹی آئی کا شرمناک رویہ ناقابل برداشت ہے ، میری رولنگ سیاسی نہیں ، آئین و قانون کا واضح تقاضا تھی ، اپنی رولنگ کی روشنی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو باضابطہ خط لکھوں گا ، خط کی کاپی تمام پارلیمانی لیڈروں کو بھی بھجوائی جائے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ اداروں پر حملہ، تنازع اور انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں ہوگی ، رولنگ پر سختی سے عملدرآمد ہوگا، کوئی رعایت نہیں ہوگی ، اب تک برداشت کیا، آئندہ خلاف ورزی پر سینیٹرز کی رکنیت معطل ہوگی ، مسلسل خلاف ورزی پر رکنیت طویل مدت کیلئے بھی معطل ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔