Islam Times:
2026-07-24@05:50:53 GMT

دھی رانی پروگرام، مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیاں

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

دھی رانی پروگرام، مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیاں

مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دھی رانی پروگرام وزیرِاعلیٰ پنجاب کا عوام دوست اقدام ہے، شرکاء نے حکومتِ پنجاب کے فلاحی اقدامات کو سراہا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دھی رانی پروگرام کے تحت مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیرِ اہتمام سپورٹس گراؤنڈ مظفرگڑھ میں منعقد ہوئی، صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ ہر جوڑے کو 2 لاکھ روپے سلامی دی گئی، دلہنوں کو خصوصی جہیز پیکیج بھی دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ دھی رانی پروگرام مریم نواز شریف کا عوام دوست اقدام ہے، شرکاء نے حکومتِ پنجاب کے فلاحی اقدامات کو سراہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دھی رانی پروگرام مظفرگڑھ میں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا