دھی رانی پروگرام، مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دھی رانی پروگرام وزیرِاعلیٰ پنجاب کا عوام دوست اقدام ہے، شرکاء نے حکومتِ پنجاب کے فلاحی اقدامات کو سراہا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دھی رانی پروگرام کے تحت مظفرگڑھ میں 200 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیرِ اہتمام سپورٹس گراؤنڈ مظفرگڑھ میں منعقد ہوئی، صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ ہر جوڑے کو 2 لاکھ روپے سلامی دی گئی، دلہنوں کو خصوصی جہیز پیکیج بھی دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ دھی رانی پروگرام مریم نواز شریف کا عوام دوست اقدام ہے، شرکاء نے حکومتِ پنجاب کے فلاحی اقدامات کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دھی رانی پروگرام مظفرگڑھ میں
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔