برطانیہ میں کم سے کم اجرت میں حیران کن اضافہ؛ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
برطانیہ کی حکومت نے بالآخر عوام کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کم از کم اجرت میں اضافہ کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی حکومت نے ملک میں کم از کم اجرت میں ملازمین کی عمر کی حساب سے اضافہ کردیا۔
جس کے تحت 16 اور 17 سال کے ورکرز کی اجرت میں 6 فیصد جب کہ 18 سے 20 برس کے عمر کے ملازمین کی اجرت 8.
اسی طرح 21 سال یا اس سے زائد عمر کے ورکرز کے لیے کم از کم اجرت 4.1 فیصد تک بڑھا کر 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ ہو جائے گی۔
تربیت حاصل کرنے یا اپرنٹس کرنے والے نوعمر ملازمین کی اجرت میں بھی 8 پاؤنڈز فی گھنٹہ کی مقرر کی گئی ہے۔
تاہم کم از کم اجرت میں اس اضافے کا اطلاق اپریل 2026 سے ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اجرتوں میں یہ اضافہ ان لاکھوں ورکرز کے لیے ضروری ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیش بہا رہائشی اخراجات میں بھی کم آمدنی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
تاہم حکومت کے کم از کم اجرت پر اضافے کے اس فیصلے پر ملازمت فراہم کرنے والے اداروں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اجرتوں میں اضافہ کاروباری اخراجات بڑھائے گا جس سے بعض شعبوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں یا نوجوانوں کی ملازمتیں کم ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ کم از کم اجرت میں یہ اضافہ 2025 کے دوران پہلے بھی ایک بار ہوا تھا مگر اس نئی ترمیم سے تنخواہوں میں ایک بار پھر نیا اضافہ ہوسکتا ہے۔
علاوہ ازیں برطانوی حکومت نے ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ملکی اور غیرملکی افراد فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں کورونا کے بعد سے گھروں کے بڑھتے ہوئے کرایوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کی پریشانی میں دہرا اضافہ کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔