سندھ نے 30 سال میں کافی ترقی کرلی، لوگ ملک سے باہر نہ جائیں، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
سیمینار سے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارے اہل لوگ ملک سے باہر جا کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کو ملک میں وہی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں جو انہیں باہر ملتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 30 برس میں ہم نے کافی ترقی کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے صوبے کے اہل لوگ ملک سے باہر نہ جائیں۔ کراچی کے مقامی ہوٹل میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سیمینار سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سندھ نے کافی کام کیے ہیں، ہم صحت کے شعبے کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ ہائر ایجوکیشن کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، بہت ضروری ہے کہ انڈسٹری اکیڈمیا ریسرچ کو ملایا جائے، دنیا بھر میں انڈسٹری کی ڈیمانڈ پر کام ہوتا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے اہل لوگ ملک سے باہر جا کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کو ملک میں وہی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں جو انہیں باہر ملتی ہیں، حکومت سندھ بہتر تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات بڑھانا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انڈس اسپتال کے ساتھ ہماری پارٹنرشپ ہے، ان کی محنت ہے جہاں بھی سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے سپورٹ کرتے ہیں، جناح اسپتال ایک مثال ہے جو گزشتہ 10 سال میں بہت بڑا اسپتال بن گیا، جناح اسپتال کو 15 ملین ڈالرز دینے کی منظوری دی گئی ہے، یہ 35 ملین ڈالر کا منصوبہ ہے جس سے ایمرجنسی ٹاور بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لوگ ملک سے باہر کرنا چاہتے ہیں مراد علی شاہ نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔