مذاکرات کی گنجائش ختم ہوچکی ہے، پی ٹی آئی سے بات چیت نہیں ہوگی: رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے حالیہ ٹوئٹ نے سیاسی صورتحال مزید خراب کر دی ہے اور ماحول پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ایوان کے اندر مذاکرات کی پیش کش اب بھی برقرار ہے، لیکن پی ٹی آئی نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے موقع فراہم کیا مگر پی ٹی آئی نے مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے رکھا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت بات چیت سے آگے بڑھتی ہے مگر پی ٹی آئی نے ڈائیلاگ کے بجائے ٹکراؤ کی سیاست کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق دوسری طرف سے سنجیدہ رویہ نہ آنے پر اب حکومت کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے بات چیت کا موقع ضائع کر دیا ہے اور اب انتشاری یا انتہاپسند سوچ رکھنے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی رٹ ہر صورت برقرار رکھے گی۔
دونوں رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہے کہ حکومت اب پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کو زیادہ ممکن نہیں سمجھتی اور موجودہ سیاسی ماحول مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا حل فی الحال نظر نہیں آ رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پی ٹی آئی نے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔