لوگ اب بھی یقین نہیں کر رہے کہ میں بیمار تھا، فخر زمان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
آؤٹ ہونے کا ہمیشہ دکھ ہوتا ہے، ہارنے کا زیادہ دکھ ہوتا ہے، فوٹو: اسکرین گریب
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹر فخر زمان نے کہا ہے کہ لوگ اب بھی یقین نہیں کر رہے کہ میں بیمار تھا۔
سہ فریقی سیریز میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فخر زمان کا کہنا تھا کہ آؤٹ ہونے کا ہمیشہ دکھ ہوتا ہے اور ہارنے کا زیادہ دکھ ہوتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سنچری مکمل نہ کرنے کا کوئی دکھ نہیں۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جاری میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور 330 کا مجموعی بورڈ پر سجایا۔
انہوں نے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم پاکستان کا سب سے خوبصورت اسٹیڈیم بن گیا ہے، ہمیں بھی ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر مزہ آیا، شائقین بھی انجوائے کر رہے ہوں گے۔
فخر زمان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کو جیت کا کریڈٹ جاتا ہے، نیوزی لینڈ کے اسپنرز کا آج دن تھا۔ کین ولیمسن اور ڈیرل میچل اچھا کھیلے، گلین فلپس نے آخر میں اچھی بیٹنگ کی۔
فخر زمان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کےلیے بہت پُرجوش ہیں، ابھی ٹرائی نیشن سیریز پر توجہ ہے۔ بابر اعظم کی ایک کلاس ہے، ایک میچ پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔