WE News:
2025-11-29@09:58:04 GMT

کسٹرڈ یا بم، کیا یہ پھٹ کر زخمی بھی کرسکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT

کسٹرڈ یا بم، کیا یہ پھٹ کر زخمی بھی کرسکتا ہے؟

کسٹرڈ پاؤڈر سے لذیذ میٹھا تیار ہوتا ہے جو اکثر لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں لیکن کبھی کبھار یہ ’معصوم سا دکھنے والا‘ پاؤڈر ایک طاقتور دھماکہ خیز مادے میں بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گھوڑی کے دودھ سے بنی آئس کریم کے فوائد نےسائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انسٹنٹ کسٹرڈ پاؤڈر بہت سے باورچی خانوں میں پایا جانے والا ایک اہم جزو ہے۔ بس پانی ملاکر چولہے پر تھوڑا جوش دیں اور مکئی کے نشاستے اور ذائقوں کا یہ مرکب ایک مزیدار میٹھے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب کس کے وہم و گمان میں ہوگا کہ یہ کبھی ’غصے‘ میں آکر لوگوں کو زخمی بھی کرسکتا ہے۔

لیکن 18 نومبر 1981 کو آکسفورڈ شائر میں برڈز کسٹرڈ فیکٹری میں اس مادے نے اپنا ایک غضبناک پہلو دکھایا تھا۔ وہاں یہ پاؤڈر اچانک ابل پڑا تھا جس کے نتیجے میں دھول کے بادل اٹھے اور شعلے بھڑک گئے۔

اس دھماکے میں 9 افراد زخمی ہوئے تھے لیکن خوش قسمتی سے اس ’کسٹرڈ بم‘ کے پھٹنے سے کسی کی جان نہیں گئی۔

 پاؤڈر دھماکے مہلک بھی ہوسکتے ہیں۔ مینیسوٹا میں سنہ 1871 میں آٹے کی مل میں دھماکے سے 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سنہ 1919 میں آئیووا کے شہر سیڈر ریپڈس میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک بچے سمیت 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن ایک سادہ مٹھائی کی تیاری کس طرح قتل و غارت کا سبب بن سکتی ہے؟ ان پاؤڈر دھماکوں میں کچھ عوامل بھی ہوتے ہیں کیوں کہ ایسا پاؤڈر تو ایک آتش گیر مادے سے بنا ہونا چاہیے۔ لیکن آٹا، مکئی کا نشاستہ، چینی، کوئلے یا چولہے کی آنچ، پاؤڈر پلاسٹک اور ایلومینیم پاؤڈر سب ہی جل سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اگر وہ ہوا میں چلے جاتے ہیں تو واقعی تباہ کن دھماکے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بادل میں معطل ہونے سے ان تمام ذرات کی سطح کا رقبہ بہت بڑا ہوتا ہے جو آکسیجن کے سامنے ہوتا ہے۔ اس سے وہ جلنے میں تیزی پیدا کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ اگنیشن تک گرم ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ہر معاملے میں رگڑ یا جامد بجلی جیسی گرمی کا ذریعہ ہوتا ہے تو آگ تقریبا فوری طور پر پھیل سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: مرچوں سے بنے حلوے کی ویڈیو وائرل، ’یہ میٹھا ہے یا کڑوا‘

لیکن کسٹرڈ پاؤڈر کے معاملے میں جو حادثہ پیش آیا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس شام برڈ کسٹرڈ فیکٹری میں 20 مزدور ڈیوٹی پر تھے۔ حادثے کی رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگوں نے دیکھا کہ ایک ڈبے کے اوپری حصے سے مکئی کا نشاستہ نکل رہا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس موقع پر متعدد عینی شاہدین نے دیکھا کہ ڈبے کے اوپری حصے کے قریب ایک فلیش تھا اور آگ کی ایک دیوار بن کی چوٹی سے باہر اور نیچے کی طرف پھیل رہی تھی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ تیز ہوا چل رہی تھی جس کے پیچھے ایک شعلہ تھا جو پورے علاقے میں پھیل گیا۔ بعد میں معائنے سے پتا چلا کہ مکئی کے نشاستے کو مختلف ڈبوں میں ڈالنے والی مشینری خراب ہو گئی تھی لہٰذا مکئی کا نشاستہ کنٹینر میں اس وقت تک ڈالا جاتا رہا جب تک کہ اس میں پانی بھر نہ گیا۔ اس طرح کے دھماکوں کے خطرے کو کم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کو کئی زاویوں سے دیکھا جانا چاہیے۔

جامد بجلی کو کم کرنے کے لیے فیکٹری میں تمام مشینوں کو گراؤنڈ کرنا، فلٹریشن سسٹم کی تعمیر جو ہوا سے دھول کو ہٹاتا ہے اور کسی بھی دھول کی تعمیر کے لیے محتاط گشت کرنا۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا مشورہ صحت اور حفاظتی ایجنسیوں کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ْ

ایک چمچ مکئی کے نشاستے یا کسٹرڈ پاؤڈر کو دیکھیں اور اسے تباہی کے انجن کے طور پر تصور کرنا تقریباً ناممکن ہے.

ہم میں سے بہت کم لوگوں کو ان واقعات کا براہ راست تجربہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا اسٹرابری واقعی زہریلا پھل ہے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی ناگہانی آفات سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انہیں پہلے سے ہی روک دیا جائے۔ ایسی جگہوں کو صاف رکھیں جہاں پاؤڈر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چولہے کا جائزہ لیتے رہیں اور کسٹرڈ جیسے معصوم خوردنی پاؤڈر کی مخفی تباہ کن صلاحیت پر نظر رکھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کسٹرڈ بم کسٹرڈ پاؤڈر کسٹرڈ پاؤڈر کے خطرات

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کسٹرڈ پاؤڈر کسٹرڈ پاؤڈر کے خطرات کسٹرڈ پاؤڈر ہوتا ہے جاتا ہے

پڑھیں:

گورنر سندھ کو ہٹانا ناممکن تو نہیں، لیکن اتنا آسان بھی نہیں

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی تقرری کے بعد سے ہی انہیں عہدے سے ہٹائے جانے یا ان کے اختیارات پر تنازعات کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ کامران ٹیسوری کو اکتوبر 2022 میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) کے کوٹے سے گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے تقرر اور اس کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق کئی خبریں اور تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم میں ان کی شمولیت اور فوراً بعد گورنر بننے کے معاملے پر ایم کیو ایم کے اندر بھی شدید اختلافات پائے جاتے تھے، جس کی وجہ سے یہ خبریں زور پکڑتی تھیں کہ پارٹی کے ناراض دھڑے انہیں ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

2022 سے سال 2025 کے نومبر تک درجنوں بار ایسی خبریں آئیں کہ گورنر سندھ کو ہٹایا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اس حوالے سے آنے والی ایک تازہ خبر کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے ان سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔

آئینی اختیار کس کے پاس ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کامران خان ٹیسوری اس وقت بھی گورنر سندھ کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کو ہٹانے کے حوالے سے خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، لیکن گورنر کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار آئین کے تحت صدرِ مملکت کے پاس ہے، جو وزیراعظم کے مشورے پر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔

یہ عہدہ مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا ہے اور ن لیگ ہی کی وجہ سے ایم کیو ایم کا گورنر سندھ عہدے پر موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں شامل جماعتوں کا جوائنٹ وینچر چل رہا ہے۔

سیاسی پوائنٹ اسکورنگ الگ بات ہے لیکن ٹیکنیکلی دیکھا جائے تو گورنر سندھ کو ایم کیو ایم کی مرضی کے بنا ہٹانا ناممکن تو نہیں، لیکن جب سب ٹھیک چل رہا ہے تو حکومت کو یہ محاذ کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم کا ردعمل

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وی نیوز کو بتایا کہ گورنر سندھ کو ہٹانے سے متعلق خبر کبھی مستند ہوگی تو تب ہی اس پر مؤقف دیا جا سکتا ہے، ورنہ ان فضول باتوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کامران خان ٹیسوری ایک اچھا کام کرنے والا گورنر ہے۔ سندھ کے شہری علاقے جو محرومیوں کا شکار ہیں ان کے لیے اپنی جیب سے کروڑوں روپے خرچ کیے، آئی ٹی کورس کی مثال ہے جو کامران خان ٹیسوری کے علاوہ کسی نے نہیں کرایا۔

ایک سوال پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں نہیں کہ وزیراعظم پاکستان نے گورنر سندھ کو ہٹائے جانے سے متعلق ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہو۔ اس حوالے سے پارٹی میں کوئی ذکر نہیں ہے، نہ ہی گورنر صاحب سے کسی نے کہا ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔

سندھ حکومت کا مؤقف

ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ عبداللہ نے وی نیوز کو بتایا کہ گورنر سندھ کی سیٹ ن لیگ کے پاس ہے اور انہوں نے یہ ایم کیو ایم کو دی ہے۔

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو ایم کیو ایم تنقید برائے تنقید کے راستے پر گامزن ہے، جو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت گورنر سندھ کے ساتھ تعاون بھی کر رہے ہیں اور کبھی کوئی ایشو بنانے کی کوشش نہیں کی، جبکہ وہاں سے جو مسائل کھڑے ہوتے تھے ان کو حل کیا جاتا تھا۔

مصطفیٰ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر گورنر سندھ تبدیل ہوتے ہیں تو یہ جمہوریت کا حصہ ہے اور وزیراعظم اس چیز کا اختیار رکھتے ہیں۔ جہاں تک نئے صوبے کی بات ہے، اس پر سندھ حکومت کا موقف واضح ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری ہوں یا کوئی اور اس سے فرق نہیں پڑتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سب کچھ یہی بدلیں گے
  • گورنر سندھ کو ہٹانا ناممکن تو نہیں، لیکن اتنا آسان بھی نہیں
  • پوٹن امن منصوبے پر بات کو تیار لیکن یوکرین کے لیے وارننگ
  • بلوچستان ، مچھ کے بازار اڈہ میں دھماکہ ، ایک شخص زخمی
  • دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش
  • باجوڑ، پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی کے حجرے میں دھماکا
  • ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: چیئرمین پی ٹی آئی
  • ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: بیرسٹر گوہر
  • ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکا: بیرسٹر گوہر
  • پشاور میں 24 انچ گیس پائپ لائن میں دھماکے سے آگ لگ گئی