Jasarat News:
2026-07-24@03:08:20 GMT

گرمی، برسات اور موسم سرما کی پہلی بارش

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251013-03-5

 

متین فکری

اب کی دفعہ گرمی بھی خوب پڑی جیسا کہ ہر سال پڑتی ہے اس کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی قیامت ڈھاتی رہی۔ اس سے بڑھ کر بجلی کے بل عوام کے ہوش اُڑاتے رہے۔ جماعت اسلامی نے ان بلوں کے خلاف نہایت کامیاب احتجاجی مہم چلائی اور عوام کے لیے کسی حد تک ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ گرمی کا زور ٹوٹا تو بارشوں نے آدبوچا۔ موسم برسات ہر سال آتا ہے لیکن اس سال اس نے جو قیامت ڈھائی اس کی مثال نہیں ملتی۔ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں خیبر پختون خوا کے پہاڑی علاقوں اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں وہ تباہی ہوئی جس کے اثرات مدتوں باقی رہیں گے۔ خیبر پختون خوا کے علاقے بونیر میں تو ایسی بارش ہوئی کہ اس کی زد میں آکر بڑے برے پہاڑی تودے روئی کے گالوں کی مانند زمین پر آرہے اور ان کے نیچے آکر انسانی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں جو کسر رہ گئی تھی اسے بھارت نے سیلاب بھیج کر پورا کردیا۔ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی ایک مدت سے روک رکھا ہے، ان دریائوں کی آبی گزرگاہوں پر بااثر افراد نے ہائوسنگ سوسائٹیاں بنا کر اربوں کما لیے تھے۔ لیکن جب بھارت سے سیلاب کی صورت میں پانی آیا تو دریا اپنے پرانے راستے پر چل نکلا اور مکانات کو بہا کر لے گیا۔ پنجاب میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ ان میں چاول، کماد اور سبزیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سندھ میں بھی بارشوں اور سیلاب سے تباہی ہوئی لیکن اس کا دائرہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے مقابلے میں کم تھا۔ یہ دونوں صوبے اپنے اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کرتے رہے۔ اگرچہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کا سارا زور امدادی سامان پر اپنی تصویر لگانے پر رہا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ امداد متاثرین تک پہنچ ہی گئی جبکہ الخدمت سمیت پرائیویٹ فلاحی تنظیموں نے بھی امداد کی بہم رسانی میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ میں بھی یہ فلاحی تنظیمیں سرگرم رہیں، البتہ سرکاری سطح پر بڑی حد تک خاموشی رہی۔ بلاول زرداری عالمی امداد کے منتظر رہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل بھی کی کہ متاثرین سیلاب کے لیے عالمی امداد کی درخواست کی جائے لیکن وفاقی وزرا نے اس اپیل کا یہ جواب دیا کہ اب کی دفعہ ہم نے اپنے وسائل سے متاثرین کی امداد کا فیصلہ کیا ہے، ہم عالمی برادری کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ 2022ء میں عالمی امداد کی اپیل کے باوجود اس کا جواب کچھ اچھا نہ تھا۔ عالمی امداد کی اپیل بار بار دہرانے کے باوجود صرف بارہ ارب کے ڈالر کے عطیات دینے کا اعلان کیا گیا لیکن یہ اعلان بھی محض اعلان تک محدود رہا کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکا اور پاکستان کو سخت شرمندگی اُٹھانا پڑی۔ چنانچہ اس میں عافیت نظر آئی کہ عالمی امداد کی اپیل نہ کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی امداد نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کرپشن کے معاملے میں بہت بدنام ہے اور یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بااثر کرپٹ افراد عالمی امداد بھی نہیں چھوڑتے۔ بہرکیف اب کی دفعہ وفاقی حکومت نے عالمی امداد کی اپیل نہ کی اور بلاول ہاتھ ملتے رہ گئے۔ حکومت بارشوں اور سیلاب سے تمام تر تباہی کے باوجود ترقی کی نوید سنا رہی ہے جبکہ عالمی ادارے بتارہے ہیں کہ اس تباہی کے نتیجے میں غربت بڑھ گئی ہے اور معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ اب

کس کا یقین کیجیے کس کا یقین نہ کیجیے

لائے ہیں بزم یار سے لوگ خبر الگ الگ

البتہ عوام پر جو گزر رہی ہے وہی یقین کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ عوام کی حالت بتارہی ہے کہ اس تباہی نے ان کی ’’قوتِ لایموت‘‘ بھی چھین لی ہے۔

لیجیے صاحب یہ قصہ تمام ہوا۔ موسم کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ گرمی اور برسات اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ گزر گئیں۔ اب موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ اکتوبر کا مہینہ اپنے وسط کو پہنچ رہا ہے اور اکتوبر کے وسط میں باقاعدہ بارش ہوجائے گی تو خنکی بڑھ جاتی ہے اور موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوجاتا ہے، اب کی دفعہ یہ بارش اکتوبر کے شروع میں ہی ہوگئی اس لیے سردی نے دروازے پر دستک دے دی اور بغیر اجازت گھر میں گھس آئی۔ ہم نے اس کے استقبال کے لیے کمبل نکال لیا اور اسے اوڑھ کر سونے لگے، دن میں البتہ دھوپ کی تپش برقرار ہے، زیادہ دیر دھوپ میں کھڑا نہیں رہا جاتا۔ کہتے ہیں کہ دھوپ میں وٹامن ڈی ہوتا ہے اور انسانی جسم کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ تو آئیے تھوڑی دیر دھوپ میں کھڑا رہتے ہیں۔ ارے بھئی کراچی والو آپ کیوں گھبرا گئے آپ کو تو وقت کی دھوپ نے پہلے ہی کندن بنادیا ہے۔

 

متین فکری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی امداد کی اپیل اب کی دفعہ ہے اور

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ 

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔

دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب  ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار  ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب  ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔  ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا