Jasarat News:
2026-06-03@02:24:53 GMT

گرمی، برسات اور موسم سرما کی پہلی بارش

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251013-03-5

 

متین فکری

اب کی دفعہ گرمی بھی خوب پڑی جیسا کہ ہر سال پڑتی ہے اس کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی قیامت ڈھاتی رہی۔ اس سے بڑھ کر بجلی کے بل عوام کے ہوش اُڑاتے رہے۔ جماعت اسلامی نے ان بلوں کے خلاف نہایت کامیاب احتجاجی مہم چلائی اور عوام کے لیے کسی حد تک ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ گرمی کا زور ٹوٹا تو بارشوں نے آدبوچا۔ موسم برسات ہر سال آتا ہے لیکن اس سال اس نے جو قیامت ڈھائی اس کی مثال نہیں ملتی۔ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں خیبر پختون خوا کے پہاڑی علاقوں اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں وہ تباہی ہوئی جس کے اثرات مدتوں باقی رہیں گے۔ خیبر پختون خوا کے علاقے بونیر میں تو ایسی بارش ہوئی کہ اس کی زد میں آکر بڑے برے پہاڑی تودے روئی کے گالوں کی مانند زمین پر آرہے اور ان کے نیچے آکر انسانی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں جو کسر رہ گئی تھی اسے بھارت نے سیلاب بھیج کر پورا کردیا۔ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی ایک مدت سے روک رکھا ہے، ان دریائوں کی آبی گزرگاہوں پر بااثر افراد نے ہائوسنگ سوسائٹیاں بنا کر اربوں کما لیے تھے۔ لیکن جب بھارت سے سیلاب کی صورت میں پانی آیا تو دریا اپنے پرانے راستے پر چل نکلا اور مکانات کو بہا کر لے گیا۔ پنجاب میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ ان میں چاول، کماد اور سبزیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سندھ میں بھی بارشوں اور سیلاب سے تباہی ہوئی لیکن اس کا دائرہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے مقابلے میں کم تھا۔ یہ دونوں صوبے اپنے اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کرتے رہے۔ اگرچہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کا سارا زور امدادی سامان پر اپنی تصویر لگانے پر رہا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ امداد متاثرین تک پہنچ ہی گئی جبکہ الخدمت سمیت پرائیویٹ فلاحی تنظیموں نے بھی امداد کی بہم رسانی میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ میں بھی یہ فلاحی تنظیمیں سرگرم رہیں، البتہ سرکاری سطح پر بڑی حد تک خاموشی رہی۔ بلاول زرداری عالمی امداد کے منتظر رہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل بھی کی کہ متاثرین سیلاب کے لیے عالمی امداد کی درخواست کی جائے لیکن وفاقی وزرا نے اس اپیل کا یہ جواب دیا کہ اب کی دفعہ ہم نے اپنے وسائل سے متاثرین کی امداد کا فیصلہ کیا ہے، ہم عالمی برادری کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ 2022ء میں عالمی امداد کی اپیل کے باوجود اس کا جواب کچھ اچھا نہ تھا۔ عالمی امداد کی اپیل بار بار دہرانے کے باوجود صرف بارہ ارب کے ڈالر کے عطیات دینے کا اعلان کیا گیا لیکن یہ اعلان بھی محض اعلان تک محدود رہا کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکا اور پاکستان کو سخت شرمندگی اُٹھانا پڑی۔ چنانچہ اس میں عافیت نظر آئی کہ عالمی امداد کی اپیل نہ کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی امداد نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کرپشن کے معاملے میں بہت بدنام ہے اور یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بااثر کرپٹ افراد عالمی امداد بھی نہیں چھوڑتے۔ بہرکیف اب کی دفعہ وفاقی حکومت نے عالمی امداد کی اپیل نہ کی اور بلاول ہاتھ ملتے رہ گئے۔ حکومت بارشوں اور سیلاب سے تمام تر تباہی کے باوجود ترقی کی نوید سنا رہی ہے جبکہ عالمی ادارے بتارہے ہیں کہ اس تباہی کے نتیجے میں غربت بڑھ گئی ہے اور معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ اب

کس کا یقین کیجیے کس کا یقین نہ کیجیے

لائے ہیں بزم یار سے لوگ خبر الگ الگ

البتہ عوام پر جو گزر رہی ہے وہی یقین کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ عوام کی حالت بتارہی ہے کہ اس تباہی نے ان کی ’’قوتِ لایموت‘‘ بھی چھین لی ہے۔

لیجیے صاحب یہ قصہ تمام ہوا۔ موسم کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ گرمی اور برسات اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ گزر گئیں۔ اب موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ اکتوبر کا مہینہ اپنے وسط کو پہنچ رہا ہے اور اکتوبر کے وسط میں باقاعدہ بارش ہوجائے گی تو خنکی بڑھ جاتی ہے اور موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوجاتا ہے، اب کی دفعہ یہ بارش اکتوبر کے شروع میں ہی ہوگئی اس لیے سردی نے دروازے پر دستک دے دی اور بغیر اجازت گھر میں گھس آئی۔ ہم نے اس کے استقبال کے لیے کمبل نکال لیا اور اسے اوڑھ کر سونے لگے، دن میں البتہ دھوپ کی تپش برقرار ہے، زیادہ دیر دھوپ میں کھڑا نہیں رہا جاتا۔ کہتے ہیں کہ دھوپ میں وٹامن ڈی ہوتا ہے اور انسانی جسم کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ تو آئیے تھوڑی دیر دھوپ میں کھڑا رہتے ہیں۔ ارے بھئی کراچی والو آپ کیوں گھبرا گئے آپ کو تو وقت کی دھوپ نے پہلے ہی کندن بنادیا ہے۔

 

متین فکری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی امداد کی اپیل اب کی دفعہ ہے اور

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود