جنگی اور سفارتی محاذ پرناکامی: مودی حکومت کا سات رکنی پارلیمانی وفد شراکت دار ممالک کو بریفنگ کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
نئی دہلی/اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )بھارت نے جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجہ اور سفارتی سطح پر ناکامی کے بعد مودی حکومت نے ایک سات رکنی وفد تشکیل دیا ہے جو دنیا بھر میں اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کر کے انہیں ”آپریشن سندور“ اور پہلگام واقعہ بریفنگ دے گا.
(جاری ہے)
بھارتی پریس انفارمیشن بیورو کی پریس ریلیز کے مطابق وفد میں تمام سیاسی جماعتوں کے سنیئراراکین پارلیمنٹ شامل ہیں اس دورے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان بھی وفد کے ہمراہ ہوں گے پی آئی بی کے مطابق کل جماعتی وفد انڈیا کے قومی اتحاد دہلی کا موقف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرے گا فہرست میں کانگریس پارٹی کے سنیئرراہنما ششی تھرور، بی جے پی کے رکن روی شنکر پرساد، جنتا دل یونائیٹڈ کے سنجے کمار جھا، بی جے پی کے بائیجیانت پانڈا، ڈی ایم کے پارٹی کے کنیموزی کروناندھی، این سی پی کی سپریا سولے اور شیوسینا کے ایکناتھ شندے شامل ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔