Express News:
2026-07-24@07:05:05 GMT

مسلمانوں کے مسائل کا حل ۔ باہمی اتحاد

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

عالمی سیاست ہمیشہ طاقت کے توازن میں ہی رہی ہے، معاشی اور فوجی محاذ پرطاقتور ممالک ہی دنیا کی سیاست کو اپنے اپنے انداز سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں، اس انداز کا ایک واضح اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ الفاظ ہیں جو انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے موقع پر کہے کہ اگر دونوں ممالک نے امریکا کے ساتھ تجارت کرنی ہے تو فوری طور پر جنگ بندی کردیں ورنہ امریکا اپنے تجارتی تعلقات ختم کر دے گا، یہ وہ واضح معاشی دھمکی تھی جس کا برملا اظہار امریکی صدر نے کر دیا۔

اس کے پس پردہ کیا کیا عوامل رہے ہوں گے، ان کے بارے میں چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ جیسے ہی امریکا کو اپنے مواصلاتی ذرایع سے اس عمل کی بھنک پڑ گئی کہ پاکستان بھارت کے خلاف ایک ایسی جنگ شروع کرنے کو جارہا ہے جس سے اس کا پروردہ بھارت تہس نہس ہو جائے گا تو وہ فوراً بیچ میںکود پڑے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرادی۔ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہے اوراس طاقت سے نہ صرف اس کا دشمن بھارت خائف ہے بلکہ مغربی طاقتیں بھی پاکستان کی اس طاقت کو اپنے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتی ہیں۔

 امریکا، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دن بہ دن مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم نے اس گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دی اور اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا پاکستان پر حملہ اس گٹھ جوڑ کا عملی ثبوت ہے ۔

امریکی صدر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا پاکستان کو فراموش نہیں کر سکتا ، انھوں نے پاکستانی ذہنوں کو حیرت انگیز اشیاء بنانے والا ذہن بھی قرار دیا ہے، وہ شاید یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایسی حیرت انگیز اشیاء موجود ہیں جو جنگ کے میدان میں حشر برپا کر سکتی ہیں اور اگر جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن میں بگاڑ آگیا تو پھر بات دور تلک جائے گی۔

فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کا ظلم دنیا کے سامنے ہے۔اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جب کہ ایسے ہی مظالم بھارت کشمیر کے مسلمانوں پر کر رہا ہے۔ دونوں خطوں میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر میں مصروف ہے۔

بھارت نے بھی غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ مسلم اکثریت کو ختم کیا جا سکے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی آواز کو نہ صرف دبایا جا رہا ہے بلکہ ان کی مزاحمت کو دہشتگردی کا نام دے دیا گیا ہے۔اب ایک ایسے موڑ پر جب پاکستان اور بھارت دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج کو چھو رہی ہے۔ ان حالات میں امریکا یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان بھارت کو جنگی میدان میں ہزیمت سے دوچار کر دے ۔ابھی ایک مختصر ہی جنگ میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کو جس طرح پاش پاش کیاہے، مسلم دنیاا س پر شاداں و فرداں ہے اور یہ امریکا کو قبول نہیں ہے۔

بھارت کے جانب سے جنگی جارحیت کا پاکستانی افواج جس برق رفتاری سے جواب دیا اور اپنے اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا، اس عظیم کامیابی پر بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا کھل کر اپنے حکمرانوں کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہے ، پاکستانی میڈیا کو اس بات کی ضرورت ہی نہیںپڑی کہ وہ بھارت کے میڈیا کا مقابلہ کرے، اس کے حصے کاکام بھارتی میڈیا نے بخوبی کر دیا ہے البتہ پاکستانی میڈیا نے بھارتی پراپیگنڈے کو موثر طور پر ناکام بنایا اور دنیا کو پاکستان کی کامیابیوں کی مثبت اطلاعات فراہم کیں جس پر دنیا بھر میں پاکستانی میڈیا کو سراہا جارہا ہے۔

پاکستانی عوام جو مختلف سیاسی پارٹیوں کی حمائیت میں اپنے آپ کو تقسیم کر چکے تھے اور ان کی پسند و ناپسند انتہائی تشویشناک حد وں کو بھی عبور کر چکی تھی، بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ نے قوم کو ایک بار پھر نہ صرف متحد کر دیا بلکہ پوری دنیا اور خاص طور پر دشمن بھارت کو یہ واضح پیغام چلا گیا کہ جب پاکستان کی سلامتی کا معاملہ تو پاکستانی قوم متحد اور یکجان ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں بالخصوص تحریک انصاف کی قیادت چاہے وہ اسمبلیوں میں موجود تھی یا جیل میں ان سب نے پاکستان کی سلامتی کے موڑ پر واضح پاکستانی موقف اپنایا اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت بھی دیا ۔سوشل میڈیا واریئرز نے بھارتی پراپیگنڈے کا موثرجواب اور پاکستان کے موقف کو تقویت دینے میںتحریک انصاف نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ۔ خدا کرے کہ قومی یکجہتی کا جو ڈول ڈالا گیا ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں اور قوم کی سیاسی قیادت بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کی ترقی کے عمل میں یک جان دوقالب ہو جائیں۔

 وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے پاکستان کے امن پسندانہ موقف کو دنیا بھر میں پہچانے کے لیے بلاول بھٹو زرداری کمر کس کر چکے ہیں اور وہ دنیا بھر کے ممالک کے دوروں کے دوران کشمیر پر بھارتی جارحیت اور پاکستان کے دریاؤں کا پانی بند کرنے کی مذموم بھارتی کوششوں کو دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

پاکستان کی جانب سے یہ عملی قدم پاکستان کے پر امن موقف کو تقویت دے گا ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی کشمیری اور آبی جارحیت کو کھل کر بے نقاب کیا جائے اور پاکستان کے موقف سے دنیا کو آگاہ کیا جائے، خارجہ محاذ پر یہ حکمت عملی پاکستانی کے امن پسندانہ موقف کو مزید تقویت دے گی۔

مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے مسائل کا حل صرف باہمی اتحاد میں پنہاںہے۔ امریکا، بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ عزائم کا مقابلہ صرف باہمی اتحاد سے ممکن ہے۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین جب تک حل نہیں نکلتا، دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہ دن دور نہیں جب ہر مسلمان ملک لیبیا، عراق، افغانستان اور شام جیسا بن جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان کی بھارت کے دنیا بھر موقف کو دیا ہے کر دیا

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا