سابق صدر عارف علوی اور اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر فریقین سے 5جون تک جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی اور اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر فریقین سے 5جون تک جواب طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں سابق صدر عارف علوی اور اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،وکیل درخواستگزار بیرسٹر علی طاہر نے کہاکہ سابق صدر عارف علوی، انکی اہلیہ اور بچوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے ہیں،ایف آئی اے نے انکوائری کی بنیاد پر پوری فیملی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے، عدالت نے کہاکہ فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیتے ہیں،وکیل درخواستگزار نے کہاکہ پوری فیملی کے اکاؤنٹس منجمد کرنے سے روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے مشکل ہو گئے ہیں، عدالت نے کہاکہ آپ کو بھی تو فیس کی ادائیگی کی گئی ہوگی،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ یہ کیسز بغیر فیس کے لڑ رہا ہوں،عدالت نے کہاکہ فریقین کے جواب آنے دیں پھر دیکھتے ہیں،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون تک جواب طلب کرلیا۔
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافر کو تھپڑ مارنا اے ایس ایف اہلکارکو مہنگا پڑگیا، نوکری ہی خطرے میں پڑگئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سابق صدر عارف علوی اکاؤنٹس منجمد جواب طلب نے کہاکہ عدالت نے کے بینک
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔