معصومیت کا قتل: پاکستان میں بھارت کی پراکسی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
خضدار میں جو سانحہ پیش آیا، جہاں معصوم اسکول کے بچوں کو دہشت گردی کے ایک گھٹیا ترین واقعے میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، اُس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے اور ہمارے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر منڈلاتی ہوئی اس بُرائی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ محض بچوں پر حملہ نہیں تھا، بلکہ ہمارے مستقبل پر ایک سوچا سمجھا وار تھا — ایک بزدلانہ ضرب، جو اُس دشمن نے لگائی جو میدانِ جنگ میں ہمیں زیر کرنے میں بارہا ناکام رہا، اور اب اپنی شکست کا بدلہ ہمارے بچوں کے خون سے لینا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے معصوم اور بے گناہ اسکول جانے والے بچے ایسے سفاک جرائم کا نشانہ بنتے ہیں؟ قوم آج بھی 16 دسمبر 2014 ء کے اُس ہولناک دن کا زخم سینے سے لگائے ہوئے ہے، جب دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 140 سے زائد افراد، جن میں اکثریت بچوں کی تھی، کو شہید کر دیا تھا۔ وہ دن ایسا تھا کہ آسمان بھی رو پڑا اور زمین ساکت ہو گئی۔ اب وہی ڈراؤنا خواب خضدار میں دوبارہ اُتر آیا ہے۔ ہمارے دشمن کا پیغام واضح ہے؛ اگر ہم تمہیں جنگ میں نہیں ہرا سکتے تو تمہارے بچوں کو مار کر تمہیں توڑ دیں گے۔
یہ حکمتِ عملی کسی عسکری منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ مایوسی اور غیر انسانی سفاکیت کا اظہار ہے۔ پشاور حملے کے بعد حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے ایک جامع دستاویز (ڈوزیئر) پیش کی تھی، جس میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ناقابلِ تردید شواہد شامل تھے۔ اس میں افغانستان میں موجود بھارتی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان روابط کی ریکارڈ شدہ گفتگو شامل تھی، مالی معاونت کے وہ ذرائع شامل تھے جو بھارت سے جُڑے ہوئے تھے، اور بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین کو استعمال کرنے کے ثبوت موجود تھے۔
تاہم، ان سنگین انکشافات کے باوجود، عالمی برادری نے قابلِ افسوس حد تک بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ڈوزیئر جو سفارتی دباؤ اور عالمی مذمت کا سبب بننا چاہیے تھا، خاموشی سے نظرانداز کر دیا گیا۔ اگر اُس وقت اس ثبوت کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور بھارت کو 2014 ء میں ہی جوابدہ ٹھہرایا جاتا تو شاید خضدار کا سانحہ نہ ہوتا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘
(سورۃ بنی اسرائیل، 17:33)
یہ حکمِ ربانی نہ صرف اسلامی فقہ کا بنیادی اصول ہے بلکہ ایک آفاقی اخلاقی سچائی بھی ہے۔ معصوم جانوں کا قتل، خاص طور پر بچوں کا، ایک ایسا گناہ ہے جو آسمانوں تک فریاد کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل سے سختی سے منع فرمایا۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے۔’’کسی بچے، عورت، بوڑھے یا بیمار کو قتل نہ کرو۔‘‘(سنن ابی داؤد)
ان تعلیمات کا موازنہ خضدار اور پشاور میں ہونے والی بربریت سے کیا جائے تو یہ تضاد صاف نظر آتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ناانصافی کے خلاف مضبوط اور بلند آواز میں کھڑے ہوں۔ پاکستان کو چاہیے کہ 2014 ء کے ڈوزیئر کو دوبارہ زندہ کرے اور خضدار کے واقعے سے حاصل ہونے والے نئے شواہد کے ساتھ عالمی اداروں کے سامنے پیش کرے۔ ان واقعات میں مماثلت محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے۔ بلوچستان میں خفیہ کارروائیوں سے لے کر علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت تک، بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک طویل پراکسی جنگ چھیڑ رکھی ہے، اور نشانہ ہمیشہ وہی بنتے ہیں جو سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتے ہیں۔
دنیا بخوبی جانتی ہے کہ کون سے ممالک ظلم و بربریت کو اپنی ریاستی پالیسی بنا چکے ہیں۔ چاہے وہ غزہ ہو یا کشمیر، اسرائیل ہو یا بھارت — یہ وہی درندہ صفت سوچ ہے جو بچوں، عورتوں اور پرامن شہریوں کے سینوں میں گولیاں اتارتی ہے۔ لیکن یہ طاقتور اقوام سفارتی پردوں اور عالمی اتحادوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں، جبکہ معصوموں کا خون بہتا رہتا ہے۔
پاکستان کو اب محض بیانات دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سول و عسکری انٹیلی جنس کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانا ہوگا، اور سفارتی محاذ پر بھرپور حملہ کرنا ہوگا۔ دنیا کو بار بار دکھانا ہوگا کہ ہمارا دشمن کس حد تک جا سکتا ہے — الزامات کے ساتھ نہیں، بلکہ ناقابلِ تردید ثبوتوں، ڈوزیئرز اور حقائق کے ساتھ۔ خضدار کا سانحہ ایک عالمی مطالبہِ انصاف کا نعرہ بننا چاہیے، نہ کہ ایک بھولی بسری خبر۔
ساتھ ہی، ہمیں اسی قوت اور حکمتِ عملی سے جواب دینا ہوگا جس نے پشاور کے بعد دہشت گردی کی کمر توڑی تھی۔ ہمیں اپنی سیکورٹی مشینری کو ازسرِ نو متحرک کرنا ہوگا۔ ہمیں دشمن کو یہ ہرگز یقین نہیں ہونے دینا چاہیے کہ بچوں کو نشانہ بنا کر ہماری ہمت توڑی جا سکتی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا — اور نہ ہونے دیں گے۔
یہ لمحہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے۔ آخر کتنے اور بچے شہید ہوں گے کہ دنیا اصول کی بنیاد پر عمل کرے، نہ کہ مفادات کی؟ کتنی اور میتیں دفنائی جائیں گی کہ انصاف اندھا اور بے حس نہ رہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
(سورۃ المائدہ، 5:32)
لہٰذا، ہمارا مشن نہ صرف قومی، بلکہ ایک انسانی فریضہ بھی ہے۔ یہ قرض شہدائے پشاور کا ہے، خضدار کے مظلوموں کا ہے، اور ہر اُس ماں کی آہ کا ہے جس کی گود اُجڑ گئی۔ دشمن خوف پھیلانا چاہتا ہے —ہمیں اس کا جواب اتحاد، انصاف اور سچائی سے دینا ہوگا۔
ہم اب مزید خاموشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے بچوں کا خون ہر تقریر سے بلند ہے، اور وہ انصاف کا ایسا مطالبہ ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک نظرانداز نہیں کر سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔