Daily Ausaf:
2026-07-24@05:50:32 GMT

معصومیت کا قتل: پاکستان میں بھارت کی پراکسی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT

خضدار میں جو سانحہ پیش آیا، جہاں معصوم اسکول کے بچوں کو دہشت گردی کے ایک گھٹیا ترین واقعے میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، اُس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے اور ہمارے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر منڈلاتی ہوئی اس بُرائی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ محض بچوں پر حملہ نہیں تھا، بلکہ ہمارے مستقبل پر ایک سوچا سمجھا وار تھا — ایک بزدلانہ ضرب، جو اُس دشمن نے لگائی جو میدانِ جنگ میں ہمیں زیر کرنے میں بارہا ناکام رہا، اور اب اپنی شکست کا بدلہ ہمارے بچوں کے خون سے لینا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے معصوم اور بے گناہ اسکول جانے والے بچے ایسے سفاک جرائم کا نشانہ بنتے ہیں؟ قوم آج بھی 16 دسمبر 2014 ء کے اُس ہولناک دن کا زخم سینے سے لگائے ہوئے ہے، جب دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 140 سے زائد افراد، جن میں اکثریت بچوں کی تھی، کو شہید کر دیا تھا۔ وہ دن ایسا تھا کہ آسمان بھی رو پڑا اور زمین ساکت ہو گئی۔ اب وہی ڈراؤنا خواب خضدار میں دوبارہ اُتر آیا ہے۔ ہمارے دشمن کا پیغام واضح ہے؛ اگر ہم تمہیں جنگ میں نہیں ہرا سکتے تو تمہارے بچوں کو مار کر تمہیں توڑ دیں گے۔
یہ حکمتِ عملی کسی عسکری منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ مایوسی اور غیر انسانی سفاکیت کا اظہار ہے۔ پشاور حملے کے بعد حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے ایک جامع دستاویز (ڈوزیئر) پیش کی تھی، جس میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ناقابلِ تردید شواہد شامل تھے۔ اس میں افغانستان میں موجود بھارتی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان روابط کی ریکارڈ شدہ گفتگو شامل تھی، مالی معاونت کے وہ ذرائع شامل تھے جو بھارت سے جُڑے ہوئے تھے، اور بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین کو استعمال کرنے کے ثبوت موجود تھے۔
تاہم، ان سنگین انکشافات کے باوجود، عالمی برادری نے قابلِ افسوس حد تک بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ڈوزیئر جو سفارتی دباؤ اور عالمی مذمت کا سبب بننا چاہیے تھا، خاموشی سے نظرانداز کر دیا گیا۔ اگر اُس وقت اس ثبوت کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور بھارت کو 2014 ء میں ہی جوابدہ ٹھہرایا جاتا تو شاید خضدار کا سانحہ نہ ہوتا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘
(سورۃ بنی اسرائیل، 17:33)
یہ حکمِ ربانی نہ صرف اسلامی فقہ کا بنیادی اصول ہے بلکہ ایک آفاقی اخلاقی سچائی بھی ہے۔ معصوم جانوں کا قتل، خاص طور پر بچوں کا، ایک ایسا گناہ ہے جو آسمانوں تک فریاد کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل سے سختی سے منع فرمایا۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے۔’’کسی بچے، عورت، بوڑھے یا بیمار کو قتل نہ کرو۔‘‘(سنن ابی داؤد)
ان تعلیمات کا موازنہ خضدار اور پشاور میں ہونے والی بربریت سے کیا جائے تو یہ تضاد صاف نظر آتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ناانصافی کے خلاف مضبوط اور بلند آواز میں کھڑے ہوں۔ پاکستان کو چاہیے کہ 2014 ء کے ڈوزیئر کو دوبارہ زندہ کرے اور خضدار کے واقعے سے حاصل ہونے والے نئے شواہد کے ساتھ عالمی اداروں کے سامنے پیش کرے۔ ان واقعات میں مماثلت محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے۔ بلوچستان میں خفیہ کارروائیوں سے لے کر علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت تک، بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک طویل پراکسی جنگ چھیڑ رکھی ہے، اور نشانہ ہمیشہ وہی بنتے ہیں جو سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتے ہیں۔
دنیا بخوبی جانتی ہے کہ کون سے ممالک ظلم و بربریت کو اپنی ریاستی پالیسی بنا چکے ہیں۔ چاہے وہ غزہ ہو یا کشمیر، اسرائیل ہو یا بھارت — یہ وہی درندہ صفت سوچ ہے جو بچوں، عورتوں اور پرامن شہریوں کے سینوں میں گولیاں اتارتی ہے۔ لیکن یہ طاقتور اقوام سفارتی پردوں اور عالمی اتحادوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں، جبکہ معصوموں کا خون بہتا رہتا ہے۔
پاکستان کو اب محض بیانات دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سول و عسکری انٹیلی جنس کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانا ہوگا، اور سفارتی محاذ پر بھرپور حملہ کرنا ہوگا۔ دنیا کو بار بار دکھانا ہوگا کہ ہمارا دشمن کس حد تک جا سکتا ہے — الزامات کے ساتھ نہیں، بلکہ ناقابلِ تردید ثبوتوں، ڈوزیئرز اور حقائق کے ساتھ۔ خضدار کا سانحہ ایک عالمی مطالبہِ انصاف کا نعرہ بننا چاہیے، نہ کہ ایک بھولی بسری خبر۔
ساتھ ہی، ہمیں اسی قوت اور حکمتِ عملی سے جواب دینا ہوگا جس نے پشاور کے بعد دہشت گردی کی کمر توڑی تھی۔ ہمیں اپنی سیکورٹی مشینری کو ازسرِ نو متحرک کرنا ہوگا۔ ہمیں دشمن کو یہ ہرگز یقین نہیں ہونے دینا چاہیے کہ بچوں کو نشانہ بنا کر ہماری ہمت توڑی جا سکتی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا — اور نہ ہونے دیں گے۔
یہ لمحہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے۔ آخر کتنے اور بچے شہید ہوں گے کہ دنیا اصول کی بنیاد پر عمل کرے، نہ کہ مفادات کی؟ کتنی اور میتیں دفنائی جائیں گی کہ انصاف اندھا اور بے حس نہ رہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
(سورۃ المائدہ، 5:32)
لہٰذا، ہمارا مشن نہ صرف قومی، بلکہ ایک انسانی فریضہ بھی ہے۔ یہ قرض شہدائے پشاور کا ہے، خضدار کے مظلوموں کا ہے، اور ہر اُس ماں کی آہ کا ہے جس کی گود اُجڑ گئی۔ دشمن خوف پھیلانا چاہتا ہے —ہمیں اس کا جواب اتحاد، انصاف اور سچائی سے دینا ہوگا۔
ہم اب مزید خاموشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے بچوں کا خون ہر تقریر سے بلند ہے، اور وہ انصاف کا ایسا مطالبہ ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک نظرانداز نہیں کر سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کر دیا کہ ایک

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا