ٹرمپ کا ایران پر حملہ؛ ایسا حملہ کوئی اور کرنے کی ہمت نہیں کرسکا: سیکرٹری جنرل نیٹو
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی ایران پر کی گئی فوجی کارروائی پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ٹرمپ کے نام تعریفی خط لکھا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ان پیغامات میں ایران کے خلاف “فیصلہ کن کارروائی” پر ٹرمپ کی تعریف کی ہے۔
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ یہ واقعی ایک غیر معمولی اقدام تھا، جو کوئی اور کرنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اس سے ہم سب کو مزید تحفظ ملا ہے۔
مارک روٹے نے ایک اور پیغام میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان دفاعی اخراجات سے متعلق تاریخی معاہدے پر بھی ٹرمپ کی تعریف کی۔
نیٹو کے سربراہ نے اپنے خط میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ آپ اس شام دی ہیگ میں ایک اور بڑی کامیابی کی جانب پرواز کر رہے ہیں۔ یہ آسان نہیں تھا، لیکن ہم نے سب کو 5 فیصد پر آمادہ کر لیا۔
یہ اشارہ ٹرمپ کی اس دیرینہ مطالبے کی جانب تھا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے کم از کم 5 فیصد تک بڑھائیں۔
رپورٹ کے مطابق، نیٹو جلد ہی اس نئے عہد کا باضابطہ اعلان کرنے والا ہے، جس سے ٹرمپ کی دیرینہ پالیسی کو عملی شکل ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔