ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ سنی اتحاد کونسل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے، اختلاف رائے سب میں ہوتے ہیں، مخالفین کی جانب سے باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف مستحکم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے بانی سے متعلق نون لیگ کا بیانیہ دفن کر دیا، الیکشن 2024ء میں زمینی حقائق کیا تھے بتا نہیں سکتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد رضا نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے، اختلاف رائے سب میں ہوتے ہیں، مخالفین کی جانب سے باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حامد رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف مستحکم ہے، علیمہ خان کی مائنس بانی پی ٹی آئی والی بات سے پارٹی کو تکلیف ہوئی۔

سربراہ سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پارٹی ان کیساتھ ہے، بہنیں جذبات رکھتی ہیں جس کا وہ اظہار کرتی ہیں، پی ٹی آئی کی بہنوں کو اپنے بھائی کو لے کر تشویش ہے۔ حامد رضا نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے کے 6 ماہ بعد کہا پارٹی کو بین نہیں کیا، میرے کاغذات نامزدگی پر ایس آئی سی لکھا ہوا تھا پھر بھی مجھے آزاد ڈکلیئر کیا گیا، آر اوز ہمارے راہنماؤں کے پارٹی ٹکٹس وصول نہیں کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی سے متعلق کہا تھا جوڈیشل کمیشن بنا دیں ثبوت سامنے لے آئیں، علی امین گنڈا پور کا اوپن چیلنج ہے اگر کوئی حکومت گرانا چاہتا ہے تو گرالے۔ حامد رضا نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سے متعلق کچھ لوگوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے، بانی نے کبھی بھی نواز شریف خاندان اور خواجہ آصف پر آرٹیکل 6 لگانے کا نہیں کہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حامد رضا نے کہا کہ پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا