data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ : اسرائیلی فضائی حملے میں محفوظ رہنے والے حماس کے سینئر رہنما اور جنگ بندی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ منظرِ عام پر آگئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق خلیل الحیہ نے کہا کہ اسرائیلی حملے میں ان کے بیٹے اور چیف آف اسٹاف شہید ہوگئے تھے لیکن وہ خود اللہ کے فضل سے محفوظ رہے،  یہ حملہ حماس کی سیاسی و عسکری قیادت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش تھی، اس سے مزاحمتی تحریک کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔

خلیل الحیہ نے کہا کہ اسرائیلی حملہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ حماس کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے،  حماس جنگ بندی مذاکرات کے لیے پرعزم ہے لیکن اسرائیل کی جارحیت اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ہم اپنے مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہودی ایجنٹ بھی ہمارے حوصلے ختم نہیں کرسکتے،  غزہ کی آزادی تک ہم سکون سے نہیں بیٹھے گے۔

خیال رہےکہ اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک ہدفی حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی میں خلیل الحیہ سمیت حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے، حماس نے اس دعوے کو فوراً مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تمام رہنما محفوظ ہیں۔

واضح رہےکہ  حماس کے رہنما نے اپنے شہید بیٹے اور دیگر فلسطینی مزاحمت کاروں کی نمازِ جنازہ بھی خود ادا کروائی تھی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خلیل الحیہ

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش