ہم اعلان کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کی تجویز کو قبول کر لیا ہے اور اس میں بہت سی تفصیلات ہیں جن پر بات کرنا ہے، لیکن ان میں سے بہت سے نکات موجودہ مراحلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر ہم عام اصطلاحات میں سیاسی مسائل کی حتمی اور تزویراتی تفہیم بیان کر رہے ہیں۔ ہم نے عمومیات کو قبول کیا اور خوش آمدید کہا۔ عرب اور اسلامی ممالک نے ان کا استقبال کیا اور مزاحمتی محور نے بھی ان کا استقبال کیا۔ اب ہمیں تفصیلات میں داخل ہونا چاہیے۔ ان تفصیلات میں، وقت، مقدار اور معیار کا مسئلہ مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک میں ہو گا۔ ہم کل سے ان مذاکرات میں سنجیدگی سے داخل ہونے اور کسی ایسے نتیجے پر پہنچنے کے لیے تیار ہیں جو جنگ کے خاتمے اور ہمارے بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔ اسلام ٹائمز۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے تہران میں حماس کے نمائندے خالد قدومی سے غزہ میں حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں انٹرویو کیا ہے جس میں انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی منصوبے کے خدوخال اور حماس کی جانب سے اسے قبول کرنے کی نوعیت کے بارے میں وضاحت پیش کی ہے۔ اسلام ٹائمز اردو کے قارئین کے لیے اس انٹرویو کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:

سوال: حماس کی جانب سے ٹرمپ منصوبے کو قبول کیے جانے کی نوعیت کیا ہے؟ کچھ اسے ڈھکے چھپے انداز میں مسترد کرنا جبکہ کچھ اور اسے حماس کی پسپائی قرار دے رہے ہیں، ان میں سے کس کی بات صحیح ہے؟
خالد قدومی: جو چیز ہمارے مدنظر ہے وہ قومی مفادات غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے آج تک جاری رہنے والی نسل کشی، خونریزی اور قتل و غارت ہے۔ اگرچہ ہم نے ٹرمپ کی پیشکش قبول کی ہے اور اسے عملی شکل دینے کی جانب گامزن ہیں لیکن صیہونی رژیم نے کل رات سے اب تک دھماکہ خیز مواد کے حامل روبوٹس کے ذریعے جارحانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہودی آبادکاروں کی جانب سے بھی فلسطینیوں کے گھروں پر حملے جاری ہیں۔ لہذا ہمارا ردعمل ایک قومی اور ذمہ دارانہ ردعمل ہے جو تمام فلسطینی گروہوں کے موقف کا ترجمان بھی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا ہے۔ لہذا موجودہ حالات میں یہ کہنا کہ حماس نے پسپائی اختیار کی ہے انتہائی نامعقول اور حقیقت سے عاری بات ہے۔ آج حماس نے اپنے بیانیے میں اصولی موقف اختیار کیا اور اپنی ریڈلائنز بھی واضح کر دی ہیں۔ حماس نے فلسطینی تشخص کی حفاظت، غزہ سے صیہونی فوج کے مکمل انخلا، مکمل جنگ بندی، سرحدی راہداریوں کے کھلنے، انسانی امداد کی غزہ منتقلی، غزہ کی تعمیر نو اور سیاسی راہ حل کی جانب حرکت پر زور دیا ہے۔ حماس کا یہ جواب نیا نہیں ہے بلکہ ہم نے وائٹ ہاوس یا مجرمانہ اقدامات انجام دینے والی قوتوں کے ہر بہانے کا خاتمہ کیا ہے۔ اعدادوشمار 66 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت ظاہر کرتے ہیں جبکہ غزہ میں بچے اور خواتین شدید ترین بحرانی حالات سے روبرو ہیں۔ حماس بارہا اپنا مثبت موقف بیان کر چکا ہے لیکن عالمی برادری کو جگانے کے لیے شاید اس حد تک قربانیاں دینا ضروری تھا۔
 
سوال: کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس ردعمل نے حماس کو "مکمل مزاحمت" کی پوزیشن سے "سیاسی بحران کے انتظام" کی پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔ کیا آپ اس تشخیص سے اتفاق کرتے ہیں؟
خالد قدومی: حماس کے اندر مزاحمت کا مسئلہ ہمارے لیے ایک مکمل اور جامع تصور ہے۔ اس مزاحمت کا بنیادی ستون فوجی مزاحمت ہے۔ سیاسی مزاحمت، سفارت کاری اور غزہ کی موجودہ بحرانی صورت حال کا انتظام جو صیہونی رژیم کے بے شمار جرائم کی وجہ سے آج تک جاری ہے، بھی اسی تصور میں آتے ہیں۔ یہ تصور ہماری مزاحمت کے افسانوں کا حصہ ہے اور کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اب سیاسی نظم و نسق کی بحث میں جس کا آپ نے ذکر کیا، کیا ہم موجودہ فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہیں؟ ہمارے وزیراعظم وہی شہید اسماعیل ہنیہ تھے۔ ہم کابینہ کے ارکان اور فلسطینی مشاورتی اسمبلی کے ارکان ہیں۔ صیہونی رژیم کے خلاف سنجیدہ اور موثر مزاحمت کا مسئلہ، فلسطین میں اپنے اور اپنے حقیقی حقوق کے دفاع کا ہمارا حق ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر تجزیہ نگار اور ماہرین حماس کے بیان پر توجہ دیں تو بھی انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ حماس اور فلسطین کے سیاسی اور اصولی موقف اس بیانیے میں واضح کر دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، جنگ کا مکمل خاتمہ، صیہونی رژیم کی افواج کا انخلاء، کراسنگ کھولنا، انسانی امداد کا داخلہ، غزہ کی تعمیر نو اور پھر تبادلے کی طرف بڑھنا۔ ہم پہلے دن سے تبادلے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے، خاص طور پر بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے کرپٹ، انتہا پسند اور رجعت پسند رہنماوں کے تناظر میں۔
 
سوال: "قیدیوں کے تبادلے" والے حصے میں حماس نے ٹرمپ کے تجویز کردہ فارمولے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیا حماس تمام قیدیوں کی بیک وقت رہائی پر راضی ہے؟ کیا یہ حماس کے ہاتھ خالی کرنے کا باعث نہیں بنتا؟
جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا، بیانیے میں اصولی موقف واضح کر دیا گیا ہے۔ اگر ٹرمپ واقعی سنجیدگی سے جنگ روکنے کا ارادہ رکھتا ہے اور سچ بول رہا ہے تو اسے عمل میں اس کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یقیناً ہر چیز کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ تفصیلات کو مذاکرات کی میز پر زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ لہذا، یہ سوالات وہی ہیں جو ہم نے بیانیے میں واضح کر دیے ہیں۔ آئیے ان مسائل کو بات چیت اور حل کرنے کے لیے مذاکرات کی طرف بڑھیں۔ ہم نے پہلے دن سے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ ہم شروع سے تیار تھے لیکن تل ابیب کے کرپٹ لیڈر تیار نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ اس وقت بھی جب ہم نیتن یاہو کے خلاف صیہونیوں کی زبردست ریلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے لیے فوجیوں کی جانیں بے اہمیت ہیں۔ ہمارے پاس قیدیوں کے تبادلے کا ایک مکمل اور واضح فارمولا ہے: سب کے مقابلے میں سب۔ اب تفصیلات کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس تبادلے کے لیے 72 گھنٹے ہیں، جبکہ اس حوالے سے تفصیلی جانچ میں وقت درکار ہے، کیونکہ مثال کے طور پر کچھ قیدی برسوں سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے اہل خانہ کہاں ہیں۔ لہٰذا، منطق کو غالب ہونا چاہیے اور ہمیں کھلے ذہن اور کھلے دل سے مذاکرات کرنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم مذاکرات کی میز پر جائیں اور دیکھیں کہ اگلے دن اسرائیل نے غزہ کے رہنماؤں اور عوام کے خلاف اپنے بزدلانہ حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ وہ دی گئی ضمانتوں کا احترام نہیں کرتے۔ ہم ضمانتوں کے بغیر تبادلے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ حتی گذشتہ سمجھوتے میں، جو جنگ کا ابتدائی خاتمہ تھا، دوسری مفاہمت کے 40 یا اس سے زیادہ دنوں کے اندر انہوں نے فوجی حملے شروع کر دیے۔ وائٹ ہاؤس کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ ثالثوں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ اس مفاہمت کو عملی جامہ پہنانے اور اس کے نفاذ کے لیے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ سنجیدہ ضمانتیں اور طریقے فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
 
سوال: بیانیے میں "عرب اور اسلامی حمایت" کا ذکر کیے جانے کے پیش نظر، آپ اس حمایتی عمل میں مزاحمتی محاذ بالخصوص ایران اور حزب اللہ لبنان کا کیا کردار دیکھتے ہیں؟
خالد قدومی: ایران اور حزب اللہ لبنان میں ہمارے عزیز اور گرانقدر بھائی نیز وہ دوست جو خطے میں مزاحمتی بلاک میں موجود ہیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ مزاحمت خطے میں ہمارے قومی مفادات کے تحفظ اور اس سرزمین کے باشندوں کی عزت اور انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے ایک اہم نظریہ ہے۔ مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس طوفان کے بغیر ہم اس تاریخی موڑ تک نہیں پہنچ سکتے۔ ایک ایسا مقام جہاں آج پوری دنیا مزاحمت کے جواب کی منتظر ہے۔ ایران، حزب اللہ لبنان اور یمن میں ہمارے بھائی اور دوست ہمارے ساتھ ہیں اور ایک موثر کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ وہ عرب اور اسلامی قوم کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ مزاحمتی محاذ میں موجود تمام دوستوں کے ساتھ، عرب اور اسلامی ممالک میں، خطے میں، قومی اتفاق رائے کے ساتھ اور حتیٰ کہ عرب اور اسلامی اشرافیہ اور بین الاقوامی لبرل کے ساتھ پوری مشاورت، غور و فکر اور ہم آہنگی کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ صمود فلوٹیلا پر ہمارے بھائی اور بہنیں، اور یورپ اور امریکہ کی سڑکوں پر موجود مظاہرین نے حماس کی تجویز اور مزاحمت کے نسخے پر اپنی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے ہم بھی ایک ساتھ ہیں اور انشاء اللہ اس مزاحمت اور ان قربانیوں کا ثمر فلسطینی عوام کے لیے آزادی اور امن کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
 
سوال: کیا حماس بحران کے اس مرحلے پر بھی کسی بھی سیاسی معاہدے کی بنیادی حمایت کے طور پر مسلح مزاحمت کے آپشن پر زور دیتی ہے؟
خالد قدومی: ہمارے پاس ایک عمومی اور جامع تصور ہے جس کا بنیادی ستون فوجی مزاحمت رہا ہے اور ہے۔ مزاحمت نے ہم پر ثابت کیا ہے کہ دشمن کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرنے کا واحد راستہ یہی راستہ ہے۔ کیا جس نے مزاحمت ترک کر دی ہے اس نے کچھ حاصل کیا ہے؟ جو دوست سمجھوتے کے ساتھ آگے بڑھے ہیں، 1991 سے لے کر آج تک، انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو بھولنے اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ لہٰذا، مزاحمت ہمارے قومی مفادات، ہمارے عوام، غزہ اور فلسطین کے عوام کے لیے ان مثبت، اہم اور فائدہ مند نتائج کے حصول کا اصلی اور بنیادی راستہ ہے۔
 
سوال: بعض صہیونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ "حماس نے عملی طور پر ٹرمپ منصوبے کو قبول کرلیا ہے"، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
خالد قدومی: ہم اعلان کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کی تجویز کو قبول کر لیا ہے اور اس میں بہت سی تفصیلات ہیں جن پر بات کرنا ہے، لیکن ان میں سے بہت سے نکات موجودہ مراحلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر ہم عام اصطلاحات میں سیاسی مسائل کی حتمی اور تزویراتی تفہیم بیان کر رہے ہیں۔ ہم نے عمومیات کو قبول کیا اور خوش آمدید کہا۔ عرب اور اسلامی ممالک نے ان کا استقبال کیا اور مزاحمتی محور نے بھی ان کا استقبال کیا۔ اب ہمیں تفصیلات میں داخل ہونا چاہیے۔ ان تفصیلات میں، وقت، مقدار اور معیار کا مسئلہ مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک میں ہو گا۔ ہم کل سے ان مذاکرات میں سنجیدگی سے داخل ہونے اور کسی ایسے نتیجے پر پہنچنے کے لیے تیار ہیں جو جنگ کے خاتمے اور ہمارے بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔
 
سوال: اگر حماس کے قبول کرنے کے باوجود اسرائیل نے بمباری جاری رکھی تو کیا اسے امریکی منصوبے کی قانونی حیثیت کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھا جائے گا؟
خالد قدومی: آپ کی تشویش وہی ہے جو میرے ذہن میں بھی ہے اور خطے کے دوستوں میں بھی ہے۔ امریکہ واقعی قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ ہم آج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم گلاس کو آدھا بھرا ہوا دیکھتے ہیں اور آدھا خالی ایک طرف رکھ دیتے ہیں، لیکن ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ یہ بات رہتی ہے کہ یہ دشمن قابل اعتبار نہیں ہے۔ امریکیوں نے بدقسمتی سے آج تک ثابت کیا ہے کہ آپ کو ان کے اقدامات کے نتائج کے بارے میں کئی بار سوچنا ہو گا۔ تاہم ہم دنیا کے سامنے کھلے عام اعلان کرتے ہیں کہ اس مفاہمت کی کامیابی کی ذمہ داری ٹرمپ، ثالثوں اور عرب اور اسلامی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ اب ہمیں جنگ کو روکنا چاہیے، صیہونی رژیم کی افواج کو نکالنا چاہیے اور اپنے لوگوں کے لیے انسانی امداد لانی چاہیے تاکہ ہمارے بچے پانی پی سکیں، دودھ پی سکیں اور دنیا کے دوسرے لوگوں کی طرح امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عرب اور اسلامی ممالک ان کا استقبال کیا مذاکرات کی میز پر صیہونی رژیم تفصیلات میں ہونا چاہیے خالد قدومی بیانیے میں کر رہے ہیں کی جانب سے مزاحمت کے کے طور پر کرتے ہیں کا مسئلہ قبول کر حماس کے قبول کی کے تحفظ نہیں ہے حماس کی ٹرمپ کی کے ساتھ کیا اور ہیں اور واضح کر کو قبول کر دیے اور ہم ہیں کہ دیا ہے کیا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل