پی آئی اے کے روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل سے متعلق دو تجاویز زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2025ء) قومی ایئر لائن (پی آئی ای)کے امریکن روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل کا دپرپا فیصلہ تاحال نہ ہو سکا، ہوٹل سے متعلق مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔ایک تجویز ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو مسمار کرکے بڑا کمرشل پلازہ اسکی جگہ تعمیر کیا جائے اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ ہوٹل کو برقرار رکھ کر اسے تجارتی مقاصد میں تبدیل کرکے منافع کمایا جائے۔
(جاری ہے)
اس متعلق کسی فرم سے جوائنٹ وینچر کے طور معاہدہ کیا جائے لیکن تاحال روزویلٹ ہوٹل کے لیے حکومت فنانشل ایڈوائزر کی تقرری نہیں کر سکی۔اس سے قبل، ایک امریکی فرم نجکاری کمیشن کو روزویلٹ ہوٹل کے لیے فنانشل ایڈوائزر کی خدمات سے دستبردار ہوگئی تھی۔ حکومت نے گزشتہ ماہ نئے فنانشل ایڈوائزر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض معاہدے کی شرائط میں پبلک سیکٹر کمپنیوں کی تنظیم نو یا نجکاری شامل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روزویلٹ ہوٹل کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔